تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 506
۴۹۳ پڑھنے اور پھر دوسروں کو پڑھانے کا موقعہ کب دے سکتے ہیں۔وہ تو ایسے شخص کو یا قید کر دیں گے یا اس کا کھانا پینا بند کر دیں گے کہ وہ نکلتا اور قوم پر بو جھ ہے۔اسی طرح حدیث کا علم بھی علاوہ درجنوی حدیث کی کتب کے ، درجنوں امن کی تشریحات کی کتب کے اور اس کے ساتھ لغت اور صرف و تحہ اور اسماء الرجال کی کتب پر مشتمل ہے۔بغیر حدیدیش کے علم کے مسلمانوں کو اسلام کی تفصیلات کا علم ہی نہیں ہو سکتا۔اور بغیر اس علم کے ماہرین کے جو اپنی عمر اس علم کے حصول میں خرچ کریں مسلمانوں میں اس علم کی وانتیمیت پیدا ہی نہیں ہو سکتی مگر کمیونزم تو اس علم کے پڑھنے کو ہی لغو اور فضول اور بیگانہ قرار دیتی ہے۔وہ اس علم کے پڑھنے اور پڑھانے والوں کو اپنی عمر اس علم کے حصول میں قطعا خرچ نہ کرنے دی گئی۔یا ایسے آدمی کو قید کرے گی یا اُسے فاقوں سے مارتے گئی۔کیونکہ وہ اس کے نزدیک بیکار وجود ہے اور قوم یہ با ر۔ہمارے نزدیک جو شخص مشین چلا رہا ہے وہ بھی کام کر رہا ہے اور جو شخص مذہب پھیلا نہ ہی ہے وہ بھی کام کہ رہا ہے اور جو نہ ہب کی تعلیم دے رہا ہے۔وہ بھی کام کر رہا ہے اور جو نہ ہمیں کی تعلیم حاصل کر رہا ہے وہ بھی کام کر رہا ہے مگر اُن کے نزدیک ہو مشخص مشین چلاتا ہے وہ تو کام کرنے والا ہے مگر جو شخص مذہب پڑھتا یا پڑھاتا یا پھیلاتا ہے وہ لکھتا اور لہے کا رہ ہے ان کے نزدیک لوگوں کو الف اور با و سکھانا نام ہے ملا اله الا احمد من سُول الله اگر لوگوں کو سکھایا جائے تو یہ کام نہیں۔بلکہ نکما پن ہے۔اب دیکھو ہمارے نظر تیر اور ان کے نظریہ میں کتنا بڑا فرق ہے اور مشرق و مغرب کے اس قدریہ بعد کو کس طرح دور کیا جا سکتا ہے ؟ اس تفصیل کے ماتحت کمیو نزام نظام میں وہ شخص جس کے پیروں کی ٹیل کے برابر بھی ہم دنیا کے بڑے بڑے بادشاہ کو نہیں سمجھتے جس کے لئے ہم میں سے ہر شخص اپنی جان کو قربان کرنا اپنی انتہائی خوش بختی اور سعادت سمجھتا ہے یعنی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ کو تم جو رات اور ون خدا کی باتیں سنا کہ بنی نوع انسان کی روح کو روشن کیا کرتے تھے۔اسی طرح مسیح موسی ابراهیم - کرش - رام چند رده بودند - زرتشت - گورد نانگ - کنفیوشن - پیسب