تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 482 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 482

کے اعلان سے اندازاً دس دن پہلے گورنر جنرل کے پرائیویٹ سیکرٹری MR۔GEORGE AREL نے مغربی SIR EVANS JENKINS پنجاب کے گورنر SIR کو ٹیلیفون پر اطلاع دی کہ پنجاب کی حدبندی کی لائن ہوں ہوگی۔گورنر صاحب ان کے کہنے کے مطابق لائن نوٹ کرتے گئے۔پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے کہا۔یہ امپائر کا فیصلہ ہے۔اڑتالیس گھنٹوں کے اندر اس کا اعلان ہو جائے گا۔آپ اپنے حاکم ہو نھیں کے ساتھ مشورہ کر کے اس کے عملی نفاذ کا انتظام کر لیں۔اس لائن کے مطابق بھی فیروز پور اور زیرہ کی تھیلین اکریت میں شامل تھیں۔فیصلے کا اعلان اڑتالیس گھنٹے بعد نہیں بلکہ دس دن بعد ہوا۔اور آخری فیصلے میں ان تحصیلوں کو پاکستان سے علیحدہ کر کے ہندوستان میں شامل کر دیا گیا۔پس پردہ اس عرصے میں کیا کارروائی ہوئی اور کونسی چال کارکی ہوئی یہ غیب کی بات ہے جس کی حقیقت ابھی ظاہر نہیں ہوئی لیکن بعض امور غور طلب اور نتیجہ تیز ہیں جو اطلاع پرائیویٹ سیکرٹری نے مغربی پنجاب کے گورنر کو دی رہی اطلاع انہوں نے مشرقی پنجاب کے گورنر مسٹر تر یو ڈی کو بھی دی ہوگی جناب پنڈت جواہرال نہرو اس وقت سربراہ حکومت تھے۔یہ قرین قیاس ہے کہ مسٹرتر یویڈ کی نے وہ اطلاع جناب پنڈت صاحب کو پہنچائی۔اب صورت یہ تھی کہ دریائے ستلج سے بھاری ہونے والی نہروں کے HEAD WORKS تحصیل فیروز پور میں تھے۔ان نہروں کے پانی کا ۸۳ فیصدی پانی پاکستان میں بجاتا تھا۔فقط ، فیصدی ہر بیکانیر کے ذریعے ریاست بیکانیر میں بھاتا تھا۔ریاست بیکانیر میں صرف یہی ایک نہر تھی اور ریاست کی خوشحالی میں اس شہر کا بہت بڑا حصہ تھا۔ریاست بیکانیر اگر ایک طرف ہندوستان سے بحق بھی تو دوسری طرف پاکستان سے ملحق تھی۔مہاراجہ بیکانی کانگریس کے استبداد سے پریشان تھے۔اگر ان کی نہر کا دہانہ پاکستان میں پھلا جاتا تو عین ممکن تھا کہ اس وقت کے حالات میں وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کے امکان پر غور کرنا شروع کر دیتے۔بیکانیر سے آگے ریاست جیسلمیر تھی جس کی آبادی کی کثرت مسلمان تھی اور مہاراجہ جیسلمیر کے تعلقات اپنی روایات کئے مسلمانوں کے ساتھ بہت خوشگوار تھے۔وہ بھی مہاراجہ بیکانیر کی طرح کانگریس سے مخالف تھے۔اگر مہاراجہ بیکانیر پاکستان کے ساتھ الحاق کے امکان پر غور کر سکتے تھے تو مہاراجہ جیسلمیر کے ذہن میں بھی یہ امکان پیدا ہو سکتا تھا۔یہ امکان جناب پنڈت صاحب اور ان کے رفقاء کے لئے بہت پریشانی کا موجب ہوتا۔اُدھر اگر HEAD WORKS ہندوستان کے تسلط میں آجاتے تو گویا ہندوستان کے ہاتھ میں پاکستان کی ایک رگ جان آجاتی اور یوں بھی فیروز پور اور زیرہ کی تحصیلوں کے پاکستان میں شامل ہو جانے سے پاکستان