تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 481
۴۶۹ میرے قیام لاہور کے عرصے میں معزز اور محترم میزبان جناب سرسید مراتب علی صاحب نے میرے اور میرے رفتار کی خدمت اور تواضع میں کوئی دقیقہ اُٹھا نہ رکھا ہم سب کے دل ان کے بیشمار احسانات اور عنایات کے احساس سے پر تھے۔فجراء اللہ احسن الجزاء چونکہ انکا دو لشکرہ ان ایام میں کمشن کے روبرو مسلم لیگ کی نمائندگی کا مرکز بن گیا تھا اس لئے خوردو نوش کے سینے میں خاص طور پر اُن کی مہمان نوازی بہت وسیع ہوتی چلی گئی۔لیکن یہ امران کی دلی راحت ہی کا موجب ہوا۔اور انہوں نے نہایت فراخدلی اور خندہ پیشانی سے اُسے سرانجام دیا۔بحث کے دوران ہم سب کے عدالت جانے اور عدالت سے لوٹنے کا انتظام بھی جناب سید صاحب ہی فرماتے رہے فرض تواضح کا کوئی پہلو کسی وقت ان کی باریک بین نگاہ سے اوکھیل نہ ہوا۔امن اور سکون کے حالات میں ان کی پیم نوازش کا سلسلہ نہایت ممتاز حیثیت کھتا ہے لیکن انہوں نے یہ تمام خدمت اور تواضع اس اعلیٰ پیمانے پر ایسے حالات میں سرانجام دی جب ہر طرف نفسانفسی کا عالم تھا اور یہ سب فرائض انہوں نے خالصہ رضا کارانہ طور پر اپنے وقتے لے لئے تھے۔یکی بحث کے سلسلے میں ابھی لاہو رہی میں تھا کہ مجھے جناب قائد اعظم کا پیغام پہنچا کہ فارغ ہونے پر بھوپال جاتے ہوئے ہیں دکی ان کی خدمت میں حاضر ہو کر بھوپال جاؤں۔انہوں نے کمال شفقت سے خاکسار کو شام کے کھانے کی دعوت دی۔حاضر ہونے پر نا کسار کو معانقے کا شرف بخشا اور فرمایا میں تم سے بہت خوش ہوں اور تمہارا نہایت ممنون ہوں کہ جو کام تمہارے سپرد کیا گیا تھا تم نے اسے اعلیٰ قابلیت سے اور نہایت احسن طریق سے سرانجام دیا۔کھانے کے دوران میں طریقہ تقسیم اور کاروائی تقسیم کے موضوع پر گفتگو رہی۔آپ سے رخصت ہو کہ میں بھوپال پھلا گیا۔حد بندی کے فیصلے میں تعویق ہوتی گئی موجب فیصلے کا اعلان ہوا میں بھو پال ہی میں تھا۔فیصلے کا اعلان میں نے ریڈیو پریشٹنا اور سنتے ہی مجھ پر سکتے کا عالم طاری ہوگیا۔آہستہ آہستہ یہ خیال میرے دل میں پختہ ہوتا گیا کہ اس واضح ظلم اور بے انصافی کی مصیبت کی شہر میں اللہ تعالے کی کوئی حکمت مخفی ہے جیسے وہی جانتا ہے اور جو اپنے وقت پر ظاہر ہو جائے گی۔حد بندی کی آخر وہی لائن قائم ہوئی جس کا اندازہ جناب شیخ دین محمد صاحب نے فریقین کے تحریری بیانات داخل ہونے سے بھی دو دن پہلے کر لیا تھا سوائے اس کے کہ اُس اندازے میں فیروز پور اور زیرہ کی تھیلیں پاکستان میں شامل تھیں اور آخری فیصلے میں انہیں پاکستان ہے الگ کر کے ہندوستان میں شامل کر دیا گیا تھا۔اس کی زبر دست تائید اس واقعہ سے بھی ہوتی ہے کہ فیصلے