تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 465
۴۵۳ نے اپنا ذاتی سامان سترہ بڑے بڑے کھوکھوں میں احتیاط کے ساتھ محفوظ کر کے ایک دوست کے ہاں پرانی دتی میں رکھوا دیا۔چند دن بعد ہی دلی میں بے چینی اور بدامنی کے آثارہ شروع ہو گئے اور جیسے تقسیم کی تاریخ قریب آتی گئی حالت بد سے بد تر ہوتی گئی۔اس کے بعد معلوم نہ ہو سکا ہمارے سامان کا کیا حشر ہوا۔جہاں انسانی جان ، عزت ، آبرو کی کوئی قدر باقی نہیں رہ گئی تھی اور لاکھوں انسان ہر نوع کی وحشت اور بہیمیت کا شکار ہو رہے تھے وہاں محض سامان کے متعلق دریافت بھی کرنا سنگدلی کے مترادف ہوتا۔نہ ہم نے پوچھا نہ کچھ معلوم ہوا۔بھوپال میں ہمارے لئے مکان ، سامان ہر سہولت عالیجناب نواب صاحب کے فرمان سے بہتا کردی گئی اور جتنا عرصہ ہم بھوپال میں ٹھہرے ہم نے بفضل اللہ بہت آرام پایا۔فجزاہ اللہ احسن الجزار - جب آزادی ہند کے ایکٹ کا مسودہ پارلیمنٹ میں پیش ہونے کا وقت قریب آیا تو عالیجناب نواب صاحب نے خاکسار کو ارشاد فرمایا، تم دو ہفتے کے لئے لندن چلے جاؤ تمہاری وہاں بہت سے اراکین پارلیمنٹ سے شنائی ہے۔تم وہاں یہ بھائزہ لینا کہ مسودے پر بحث کے دوران میں کیا کسی ایسی وضاحت کا امکان ہے جس سے نئے آئین میں والیان ریاست ہائے ہند کے حقوق کی حفاظت کر سکے۔اگر ایسا کوئی موقعہ ہو تو اس سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرنا۔میں جناب نواب صاحب کے ارشاد کی تعمیل میں سفر انگلستان کے لئے تیار ہوا۔تو دتی سے پیغام آیا کہ جناب قائد اعظم نے خاکسار کو طلب فرمایا ہے۔چنانچہ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا۔پنجاب میں جو کیشن حد بندی کے لئے قائم کیا جانے والا ہے اس کے درو بر مسلم لیگ کی طرف سے وکالت کی ذمہ داری ہم تمہارے سپرد کرنا چاہتے ہیں۔میں نے گذارش کی، ہمیں حاضر ہوں لیکن جناب نواب صاحب کے ارشاد کے ماتحت میں عازم انگلستان ہونے والا ہوں۔مجھے معلوم نہیں کمیشن کی کارروائی کب شروع ہو گی اور مجھے تیاری کے لئے کتنا وقت ملی گا۔قائد اعظم : تم انگلستان کتنا عرصہ ٹھہر دو گے ؟ ظفر اللہ خال : میرا اندازہ تو پندرہ دن کا ہے۔قائد اعظم پھر تمہیں کوئی فکر نہیں ہونا چاہیے۔کمشن کی کارروائی کے شروع ہونے میں بھی مبی دیہ ہے۔ابھی تو کوئی امپائر بھی مقرر نہیں ہوا۔ظفر اللہ خال: امپائر کے متعلق میں ایک گزارش کرنا چاہتا ہوں۔ہمیں کسی ایسے شخص کے تقریر پر شعر بہتا