تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 466
For چاہئیے جس کی دیانت پر پورا اعتماد ہو سکے۔آپ لندن کی رہائش کے زمانے میں پریوی کونسل کے روبرو پریکٹس کرتے رہے ہیں۔آپ کو اتفاق ہو گا کہ برطانوی LORDS OF APPEAL اپنے ماحول اور اپنے فرائض کے لحاظ سے نہایت دیانتدار اور غیر جانبدار ہوتے ہیں۔آپ زور دیں کہ ان میں سے کسی کو امپائر مقر کیا جائے۔ہر انسان غلطی کر سکتا ہے لیکن ہمیں یہ یقین ہونا چاہئیے کہ جو صاحب مقرر ہوں وہ کسی کے اثر رسوخ کے ماتحت یا کسی کے کہنے کہلانے کے نتیجہ میں کوئی کے اور سوچ فیصلہ نہ کریں۔قائد اعظم، میں تمہارے مشورے کو ذہن میں رکھوں گا ظفر اللہ خال: آپ کو کوئی اندازہ بتایا گیا ہے کہ مجھے تیاری کے لئے کتنا عرصہ درکار ہوگا ؟ قائد اعظم جیسے میں نے کہا ہے تمہیں کافی وقت میسر ہوگا۔لاہور کے وکلا نے پر اکیس تیار کر لیا ہوگا تمہیں صرف اپنے دلائل کو ترتیب دینا ہو گا اور اسلوب بحث طئے کرنا ہوگا۔ظفر اللہ شمال میں لندن سے واپسی پر کراچی سے سیدھا لاہور چلا جاؤں گا یہاں میں کس کو اطلاع دوں؟ قائد اعظم : نواب ممدوٹ سب انتظام کریں گے۔جناب قائد اعظم سے رخصت ہو کہ میں لندن چلا گیا۔جب وزیر اعظم اٹلی نے ایکٹ آزادی ہند کا مسود ایوان عام میں پیش کیا تو میں ایوان کی گیلری میں موجود تھا۔وزیر اعظم کی تقریہ بہت صاف اور واضح تھی لیکن ایک امر سے مجھے حیرانی بھی ہوئی اور پریشانی بھی۔انہوں نے اپنی تقریر میں بیان کیا ہم تو چاہتے تھے کہ لارڈ مونٹ بیٹن ہندوستان اور پاکستان دونوں کے آزادی کے بعد پہلے گورنر جنرل ہوں لیکن افسوس ہے که هر جناح رضامند نہ ہوئے۔قائد اعظم کے متعلق افسوس کا اظہار مجھے پسند نہ ہوا۔اس تفصیل کا ذکر اقل تو ضروری نہیں تھا اور اگر وزیر اعظم کی رائے میں یہ ذکر ضروری اور مناسب تھا تو ساتھ ہی یہ بھی مناسب تھا کہ وہ کہتے کہ اس تجویز پر اتفاق نہ ہوا۔قائد اعظم کا نام لے کر اظہار افسوس سے ترشیح ہوتا تھا کہ وزیر اعظم کو اس تجویز کے ناکام رہنے پر قائد اعظم سے ذاتی رنج تھا اور انہوں نے ایوان کے سامنے اس رنج کوئیوں تشہیر کیا۔بعد میں متعدد مواقع پر اُن سے ایسی حرکات سرزد ہوئیں جن سے میرے اس قیاس کو تقویت پہنچی یوی بھی مسٹر ایٹی حسن خلق کا نمونہ شمار نہیں ہوتے رہے۔سر سیموئیل ہوں جو گول میز کانفرنس کے دوران میں وزیر ہند ہوئے تھے بعد میں وزیر بھر اور پھر وزیر