تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 464 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 464

۴۵۲ چوہدری محمد فالله خانصاح کی قائداعظم ملاقات جدیدی مخالف رشدخان صاحب نے اپنی ت غیر مطبوعہ خود نوشت سوانح حیات میں حد بندی اور مسلم لیگ کے محرم اور حد بندی مشن کے عمل اقعا کسی کے سلسہ میں قائداعظم سے طاقت مسلم ملاقات لیگ کے محضر نامہ اور ریڈ کلف ایوارڈ سے متعلق اپنے پیش آمدہ اور چشم دید واقعات پر نہایت شرح وبسط سے تسلیم اُٹھایا ہے اور اس سلسلہ میں بعض نہایت پرامہ از گوشوں کو پہلی بار بے نقاب کیا ہے۔جناب چودھری صاحب موصوف کے بیان مورہ واقعات تحریک پاکستان کا ایک اہم باب ہیں اور ان کے بغیر بہادری کوئی قومی و ملی تاریخ مکمل نہیں قرار دی جا سکتی۔لہذا ان کا موجودہ اور آئندہ نسلوں کے لئے محفوظ کیا جانا ضروری ہے۔چودھری صاحب تحریہ فرماتے ہیں کہ کارڈ مونٹ بیٹن وائسرائے بن کر آئے تو آزادی کے متعلق ضروری انصرامات اور درمیانی مراحل جلد جلد طے ہونا شروع ہوئے بانڈ کے دوران میں کیا کیا اُتار چڑھاؤ ہوئے۔کیا کیا چالیں چلی گئیں۔کونسے منصوبے کامیاب ہوئے اور کونسے ناکام ، بنی نوع انسان کا کین بلند گھاٹیوں اور کین پست وادیوں سے گذر ہوا۔اور یہ سال اپنے پیچھے کتنی نیک یادیں اور منحوس ورثے چھوڑ گیا۔ان کا شمار کرنا اور ان کی صحیح تصویر پیش کرنا ایک دیانت دار ، راست ہو ، محنتی اور خدا ترس مورخ کو چاہتا ہے جو کسی وقت ضرور پیدا ہوگا لیکن ابھی ظاہر نہیں ہوا۔برطانوی وزیر اعظم نے اپنے ۳ جون شاہ کے بیان میں تقسیم ملک کے منصوبے کا اعلان کر دیا۔اس اعلان کے ہوتے ہی میں نے فیصلہ کر لیا کہ مجھے فیڈرل کورٹ سے علیحدہ ہو جانا چاہئیے چنانچہ میں نے اپنا استعفا بھیج دیا کہ - ارجون سے میں عدالت سے علیحدہ ہو جاؤنگا اس وقت میرا ارادہ تھا کہ تقسیم کے بعد میں لاہور میں دوسات کی پریکٹس شروع کروں گا لیکن اتفاق ایسا ہوا کہ ان دنوں عالی جناب نواب سر حمید اللہ خان صاحب ٹوٹے القاب والی بھوپال دتی میں فروکش تھے۔جب انہیں میرے ارادے سے اطلاع ہوئی تو انہوں نے کمال شفقت سے فرمایا کہ تم کچھ عرصے کے لئے بھوپال میرے پاس آجاؤ تا کہ میں اس مشکل مرحلے میں جو والیان ریاست کو در پیش ہے تم سے مشورہ کر سکوں بجناب نواب صائب کی طرف سے یکن پہلے بھی بہت کریمانہ الطاف کا نور رہا تھا۔ان کا ارشاد میرے لئے واجب التعمیل تھا۔چنانچہ میں عدالت سے علیحدہ ہوتے ہی بھوپال چلا گیا چونکہ ابھی کوئی صحیح اندازہ نہیں تھا کہ بھوپال میں کتنا عرصہ قیام ہوگا اور اس کے بعد کیا حالات ہوں گے۔اس لئے ہم