تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 449
ثقافت کا طغرائے امتیازہ ہے۔مثال کے طور پر دہلی کی جامع مسجد، لال قلعه ، قطب مینار ، تغلق آباد ، حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء اور دیگر از ایاء اللہ کے عظیم الشان مقابہ اور ان کی یادگاریں، شاہ ہمایوں اور دوسرے مسلمان بادشاہوں کے عالیشان مقبرے اور پھر تاج محل جیسی حسین تخلیق جو صرت فن تعمیر کے اعتبار سے ہی بیگانہ روزگار نہیں بلکہ اپنے جمالیاتی ذوق کی بناء پر بھی مرجع خلائق ہے اور اہل نظر و بینش کے لئے ایک عجیب روحانی کیف کا سامان رکھتی ہے۔شہنشاہ اکبر جیسے بلند ترین انصاف پسند بادشاہ کا عالیشان مقبرہ جو اسکندریہ کے مقام پر دریائے جمنا کے کنارے واقع ہے، حضرت اعتماد الدولہ کا مقبرہ فتح پور سیکری کا شاہی مقام اور آگرے کے گردو نواح میں قلعے ، محلات، مساجد اور دیگر یادگاری عمارتوں اور مظاہرہ کا عظیم المرتبیت سلسلہ۔اس کے علاوہ لکھنو کے گرد و نواح میں عظیم الشان یادگاری مقامات ، اجمیر شریعت میں حضرت خواجہ معین الدین اجمیری کا مقدس اور عالیشان مقبرہ جس کے ارد گرد کئی اولیاء اللہ کے مقابمہ اور ان کی مقدس یادگاریں قائم ہیں۔بنارس میں حضرت شہنشاہ اورنگ زیب کی دیدہ زیب مسجد ، پٹنہ اور بہار شریف میں کئی تاریخی مقدس یادگاریں ، مقابہ اور عمارات کو تاریخ کے ابواب میں شہری آب و تاب کا حکم رکھتی ہیں اور مسلمانوں کے زریں دور حکومت کے لئے ایک مشعل راہ کا کام دیتی ہیں اور جن کے ساتھ عام مسلمانوں کو ایک خاص جذباتی اور روحانی وابستگی ہے ، ان تمام یادگاروں کے متعلق مسلم لیگ کو علم تھا کہ ہندوستان کی تقسیم کے وقت انہیں ان سب سے دست بروالہ ہونا پڑے گا۔پھر اس کے علاؤ وہ لاکھوں اور کروڑوں روپے کی جائدادیں، بالخصوص اور ھو میں وہ وسیع و عریض تعلقے جن پر رئیسان اودھ برسوں سے قابض ہیں اور ہزاروں مسلمانوں کی بے اندازہ جائداد اور وسیع تر اراضیات جو اس صوبے میں اور مختلف علاقوں میں مسلمانوں کا سرمایہ ہیں اور جو اس امر کا ثبوت ہیں کہ کس طرح صدیوں سے مسلمانوں کی برتری کا پرچم اور ان کی حکمرانی کا جھنڈا یہاں کی سرزمین پر لہراتا رہا۔یہ تمام عظیم الشان ورثہ انہیں چھوڑنا پڑے گا۔ان تمام امور کے باوجود مسلم لیگ نے اور عامتہ السلمین کے ذہن نے کبھی اس حقیقت کو فراموش نہیں کیا کہ انسانی اقدار دولت اور مادی وسائل سے زیادہ اہم ہیں اور انسانی روح کی عظمت ان تمام مادی اور جسمانی ذخائر پر عادی ہے مسلم لیگ کا ان متذکرہ امور کے بارے میں طرز عمل یا نقطہ نگاہ کچھ بھی ہو۔یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ان کی طرف سے تقسیم کے مطالبے