تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 450 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 450

۲۳۸ کی فقط ایک ہی بنیاد تھی اور وہ آبادی کی اکثریت کا اصول تھا۔خود ہز ایکسیلینسی وائسرائے صاحب بہادر نے بھی یہ فرمایا ہے کہ جو دلائل مسلم لیگ کی طرف سے ہندوستان کی تقسیم کے لئے پیش کئے گئے ہیں انہی دلائل کی بناء پر کانگرس نے بھی بعض صوبوں کی تقسیم کا مطالبہ پیش کیا ہے اور لیگ کے مطالبے کی بنیاد جیسا کہ اُوپر عرض کیا جا چکا ہے آبادی کی اکثریت کا اصول ہے۔لہذا صاف ثابت ہے کہ یہی اصول غیر مسلموں کے مطالبے میں بھی کار فرما ہے اور اسی اصول کے متعلق ملک معظم کی حکومت کے اعلان مجریہ سرحون کہ میں اشارہ بھی کیا گیا ہے۔اس اعلان کا پیراگراف 4 حسب ذیل ہے :- تقسیم کے جملہ امور کے تصفیہ کے لئے بنگال اور پنجاب کی لیجسلیٹو (قانون ساز اسمبلیوں کے ممبران دو گروپوں میں منقسم ہو جائیں گے۔ایک گروپ ان ضلعوں سے متعلق ہو گا۔(جیسا کہ ضمیمہ سے ظاہر ہے، جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور دوسرا گروپ ان ضلعوں سے تعلق رکھنے والا ہوگا جہاں غیر مسلموں کی اکثریت ہے فی الحال یہ اقدام ایک اپنی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ صوبوں کی حدود کی تعین کا سوال جو بعض امور کی تحقیق کے بعد کیا جائیگا اس باؤنڈری کمیشن کے فیصلے پر منحصر ہو گا۔جسے گورنر جنرل مقرر فرمائیں گے۔گورنر جنرل ہی اس کمشن کے ممبران کو مقرر کریں گے اور وہی اس کا دائرہ کار تجوید فرمائیں گے جب یکشن مقرر ہو جائے گا تو وہ پنجاب کے دونوں حصوں کی حدود کی تعیین کرے گا جس کی بنیاد مسلم اکثریت والے علاقے " اور "غیر مسلم اکثریت والے علاقے ہوں گے یعنی ایسے علاقے جہاں دونوں قوموں کی الگ الگ اکثریت ہو اور وہ پنجاب کے دونوں حصوں کی سرحدات سے ملتے ہوں یکمشن کو یہ بھی ہدایت ہوگی کہ وہ بعض دوسرے امور کو بھی پیش نظر رکھے۔یہی ہدایات بنگال باؤنڈری کمشن کے لئے بھی واجب العمل ہوں گی اور جب تک دونوں کمشن پنجاب اور بنگال کی اندرونی حدود کی تعیین مکمل نہیں کر لیتے اس وقت تک وہ عارضی حدود (جن کا ضمیمہ میں ذکر موجود ہے قابل عمل سمجھی جائیں گی۔" 4۔جیسا کہ مندرجہ بالا اعلان سے واضح ہے باؤنڈری کمشن کا مقصد یہ ہے کہ "مسلم" اور "غیر مسلم اکثریت والے علاقوں کی حدود کی تعیین کی بجائے اور اس مقصد کے پیش نظر بعض