تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 448 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 448

م ان محدود کو مقرر کرنا باؤنڈری کمشن کا کام ہو گا اور یہ ضروری نہیں ہو گا کہ کمشن انہی صدور کو تسلیم کرنے ہو آج عارضی طور پر طے کر لی گئی ہیں۔ہم نے سیکھوں کی پوزیشن پر بھی کما حقہ غور کیا ہے۔یہ بہا در فرقہ اس وقت پنجاب کی آبادی کا بڑا ہے مگر ان کی رہائش اور آبادی اتنی بکھری ہوئی ہے کہ پنجاب کو خواہ کسی طریق تقسیم کر دیا جائے سکھ بہر حال تقسیم ہو کر رہ جائیں گے۔مجھے افسوس ہے کہ یہ تقسیم حیس کا خود سیکھ بھی مطالبہ کرتے ہیں انہیں ٹکڑوں میں بانٹ دے گی۔مگر یہ فیصلہ کہ معین طور پر تقسیم کیس طرح عمل میں لائی جائے گی باؤنڈری کمشن کا کام ہو گا اور اس کمشن میں سکھوں کو نمائندگی دی جائے گی" جناب الرائے کے اعلان کے مندرجہ بالا اقتباسات سے ثابت ہے کہ صوبہ پنجاب کی تقسیم غیر مسلم اصحاب کے اس اصرار اور ان کی عدم رضامندی کا نتیجہ ہے کہ وہ کسی طرح بھی اپنے اکثریت والے علاقوں کو صوبے کی اس حکومت کے سپرد نہیں کرنا چاہتے جس میں کہ مسلمانوں کو مجموعی لحاظ سے اکثریت حاصل ہے۔وہ یہ چاہتے ہیں کہ ایسے علاقے جہاں انہیں اکثریت حاصل ہے اور جن کی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں پنجاب سے بالکل الگ کر دیئے بھا ئیں بجناب وائسرائے صاحب نے فرمایا تھا کہ جیون دلائل کی بناء پر مسلم لیگ نے ہندوستان کی تقسیم کا مطالبہ کیا تھا انہی دلائل کی بناء پر کانگریس بھی بعض صوبوں کی تقسیم عمل میں لانا چاہتی ہے۔مسلم لیگ کی طرف سے تقسیم کا مطالبہ اس اصول پہ تھا کہ جن صوبوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے ان میں مسلمانوں کی الگ اور آزاد حکومت قائم کی جائے علیحدگی کا یہ مطالبہ نہ تو اُن علاقوں کے مذہبی تقدی کی بناء پہ تھا اور نہ ہی تاریخی روابط پر تھا، نہ ہی اس میں کوئی جذباتیت تھی، نہ ہی جائدادوں کا کوئی سوال تھا اور نہ ہی اس مطالبے کا محرک کوئی تہذیبی یا تمدنی امیر تھے کہ جن کی بناء پر یہ علیحدگی ضروری ہوتی۔ملک کی تقسیم کا یہ مطالبہ فقط اس اصول پر تھا کہ جن صوبوں میں ایک فرقہ کو اکثریت حاصل ہے اس فرقے کو انسانی اور جمہوری حقوق کی بنا پر یہ حق بھی دیا جائے کہ وہ اپنے قائم کردہ نظام کے مطابق اس میں زندگی بسر کر سکے مسلم لیگ کو علم تھا کہ علیحدگی کے اس اصول کے مطابق اسے اپنے بہت سے عظیم الشان اور نہایت ہی اہم تاریخی اور تمدنی ورثہ سے بھی محروم ہونا پڑے گا جو اس کی تہذیب و