تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 423
میں، اس لائن کا امرتسر سے نگروٹہ تک کا ٹکڑا آئے یا ہر ایک اس حصے پر ہی قابض ہو جو اس کے علاقے میں سے گزرتی ہے بہر صورت اس مشکل کو آپس میں تصفیے کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔پس صرف اس مشکل کی بناء پر اکثریت کی خواہشات کو ٹھکرانے اور اس علاقے کو پنجاب کے دوسرے حصہ میں شامل کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔اگر ایسا سمجھو تہ ممکن نہ ہو تو گورداسپور کے ضلع کو براہ راست پاکستان سے اس طرح ملایا جا سکتا ہے کہ بٹالے سے چھوٹی سی ریلوے لائن ڈیرہ بابا نانک تک بنا دی بھائے جو پہلے ہی نارووال کے راستے پاکستان سے ملا ہوا ہے۔اب ہم اس سوال پر غور کرنا چاہتے ہیں کہ آبادی کی اکثریت کی بنا پر گورداسپور کو مغربی پنجاب سے الحاق کا جو حق پہنچتا ہے اس کے علاوہ بھی اور دیگر امور ایسے ہیں جن سے اس حق کی تائید ہوتی ہے۔- اول امر تسر کو مشرقی پنجاب میں شامل کر کے قدرتی بعد وذ کے اصول کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔صرف ایک ہی وجہ ہو سکتی ہے جس کی بناء پر ایسا کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ کمال کے باشندوں کی اکثریت کی خواہشات کا خیال رکھا گیا ہے۔لیکن اس طرح سے مشرقی پنجاب کو یہ موقع دیا گیا ہے کہ وہ اپنے فوجی انتظامات کو دریائے بیاس سے پرے تک اس علاقے میں لے جائیں جو بھائز طور پر مغربی پنجاب کا ہے۔اب اگر با وجود اس امر کے کہ وہاں اکثریت مسلمانوں کی ہے اگر گورداسپور کا ضلع یا اس کا کوئی حصہ بھی مشرقی پنجاب میں شامل کر دیا جائے تو یہ نہ صرف اکثریت کی خواہشات کی قربانی ہو گی بلکہ اس کی مدد سے مشرقی پنجاب امرتسر کو آسانی سے مغربی پنجاب پر حملہ آور ہونے کے لئے بطور مرکز استعمال کر سکتا ہے۔اس کے تو یہ معنی ہوں گے کہ مغربی پنجاب کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اسے مشرقی پنجاب کے حوالے کر دیا جائے۔بیشک اس وقت ہندوستان اور پاکستان دونوں اعلان کر رہے ہیں کہ ان کا ارادہ پُر امن ہمسائیوں کی طرح رہنے کا ہے۔لیکن اس بات کی گارنٹی نہیں دی جاسکتی کہ آئندہ دونوں ملکوں کے درمیان الجھنیں پیدا نہ ہوں گی۔اس لئے دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیئے۔پس اگر ضلع گورداسپوریا اس کا کوئی حصہ مشرقی پنجاب میں شامل کر دیا گیا تو جنگ کی صورت میں امرتسر جنگی کارروائیوں کا بڑا مرکز بن بھائے گا اور چونکہ وہاں سے مغربی پنجاب کا دارالحکومت مدرن