تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 422
۴۱۰ کمیشن اس لئے مقرر نہیں کیا گیا ہے کہ پسماندہ آبادیوں کے مفاد کی حفاظت کرے اور یہ فیصلہ کرے کہ ان کی صحیح ضروریات کیا ہیں۔اس کے ذمہ یہ کام ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے مسلسل اکثریت والے علاقوں کی تعین کر کے ان کے درمیان حد فاصل قائم کرے۔اور اگر اس سے اس ضلع کے باشندوں کو کوئی تکلیف ہو تو یہ صرف گورداسپور کے ضلع کی اکثریت کا کام ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ آیا وہ اس تکلیف کو بروشورات کرنے کے لئے تیار ہے کہ اس کے راستے غیر ملک میں سے گزریں۔اور اگر وہ اسے برداشت کرنے کے لئے تیار ہوں تو کسی اور کو اعتراض کرنے کا حق نہیں پہنچتا اور نہ اُن کے اس حق سے انکار کیا جا سکتا ہے کہ وہ جس طرح چاہیں اُسے استعمال کریں۔علاوہ ازیں یہ کوئی نا قابل بحل مشکل بھی نہیں ہے جیسا کہ اُن ممالک کے عمل سے ظاہر ہے جہاں کامیابی سے اس وقت کو حل کیا گیا ہے۔اس قسم کا ایک مسئلہ اس بونڈری کمیشن کو بھی درپیش تھا جسے لیگ آف نیشنز نے شام اور عراق کی حد بندی کے لئے مقرر کیا تھا کیونکہ عراق کی مجوزہ ریلوے لائن کا ایک حصہ مجبوراً شام کے بعض حصوں میں سے ہو کر گزرتا تھا۔عراق اس وقت انگریزوں کے زیر حکومت تھا اور شام فرانسیسیوں کے یکمیشن نے اس کا جو حل تجویز کیا وہ یہ تھا :۔اگر انگریزی ریلوے لائن کے کسی حصے کا بعض ٹیکنیکل وجوہات کی بناء پر فرانسیسی علاقے میں سے گزرنا ناگزیر ہو تو اس صورت میں فرانسیسی حکومت کیسے حصے کو جو ان کے علاقے میں واقع ہوگا۔پورے طور پر اس مقصد کے لئے غیر جانبدار علاقہ قرار دے دے گی۔کہ انگریزی حکومت اور اس کے ٹیکنیکل ماہرین کو ریلوے ضروریات کے لئے وہاں تک پہنچتے میں پوری پوری سہولتیں بہم پہنچائے " اس حوالے کو درج کرنے کے بعد مسٹر سٹیفن بی جو نہ اپنی کتاب موسومه MAKING میں لکھتے ہیں :- BOUNDRY یہ عبارت بتاتی ہے کہ آمد و رفت کے ذرائع کی دعدت حدود میں تبدیلی کئے بغیر بھی قائم رکھی جاسکتی ہے۔مختلف قسم کی غیر علاقوں میں آمد و رفت کے حقوق کا جن میں گلوں کی موسمی نقل و حرکت بھی شامل ہے عہد و پیمان کے ذریعے تصفیہ کر لیا جاتا ہے" پس اگر لاہور سے نگروٹہ تک ریلوے لائن مغربی پنجاب کے حصے آئے یا مشرقی پنجاب کے حصے