تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 424
۴۱۲ ۱۸ میل کے فاصلے پر واقع ہے اس لئے یہ مغربی پنجاب کے خلات فوجی دباؤ کے لئے بہترین مقام بن جائے گا۔اس لئے اس نکتہ نگاہ سے لاہور کے تحفظ اور مغربی پنجاب کے تحفظ کے لئے جس کا لاہور صدر مقام ہے یہ نہایت ضروری ہے کہ گورداسپور کا ضلع مغربی پنجاب میں شامل ہو تاکہ دریائے بیاس کے اس طرف ہو مشرقی پنجاب کے علاقے ہیں ان کو پاکستان پر جب اور جس وقت چاہیں حملہ کرنے کی کھلی چھٹی نہ مل جائے لیکن اگر امرتسر کے علاوہ گورداسپور کا ضلع بھی مشرقی پنجاب میں شامل کر دیا گیا تو فوجی نقطہ نگاہ سے پوزیشن بالکل بدل جائے گی اور اس صورت میں مشرقی پنجاب نہ صرت ناہوں کی شہ رگ کے قریب اور اس لئے تمام مغربی پنجاب کی شہ رگ کے قریب اپنی مضبوط فوجی چوکیاں قائم کرنے کے قابل ہو جائے گا بلکہ ضلع گورداسپور کے ملحقہ علاقے میں نقل و حرکت کے لئے جگہ مل جائے گی۔اور یہ امر مغربی پنجاب کے تحفظ کے لئے ایسا خطرہ ہوگا جو اس کے سارے دفاعی نظام کو مفلوج کرنے کا موجب ہو سکے گا۔اس لئے مغربی پنجاب کا حق ہے کہ وہ گورداسپور کے ضلع کو جو مسلم اکثریت کا ضلع ہے (اور یہ اکثریت مغربی پنجاب میں شامل ہونا چاہتی ہے) اپنے میں شامل کرنے پر مصر ہو کیونکہ یہ اس کے مشرق سے حملہ کے خلاف دفاعی نظام کے لئے نہایت ضروری ہے۔نیز حدود کی تعیین میں جھگڑوں کو طے کرنے کے لئے یہ منصفانہ اصول تسلیم شدہ ہے کہ جہاں کوئی متنازعہ فیہ علاقہ ایسی جنگی پوزیشن کا حامل ہو کہ ایک دعوی دار ملک کے لئے اس کا حصول مدافعہ حیثیت سے ضروری ہو اور دوسرے کے لئے جارحانہ حیثیت سے اور باقی امور د ونواں کے لئے یکساں ہوں تو اس فریق کے دعوئی کو ترجیح دی جائے گی جس کے لئے اس کی اہمیت مدافعانہ پہلو سے ہے۔- گورداسپور کے مسلمانوں کی اکثریت بھاٹ قوم سے تعلق رکھتی ہے جس کا بیشتر حصہ مغربی پنجاب کے اضلاع سیالکوٹ شیخو پورہ ، لائلپور اور لاہور میں بستا ہے۔اس لئے گورداسپور کے مسلمانوں کو ایسے علاقے سے جدا نہیں کرنا چاہیئے جس میں ان کی ذات کی اکثریت آباد ہے۔بیشک انبالے کی کمشنری میں بھی بھاٹ آباد ہیں لیکن وہ اکثر ہندو ہیں اور گورداسپور کے جانوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔پس گورداسپور کے ضلع کو مغربی پنجاب سے بھدا کرنے سے گورداسپور کے مسلمانوں کی سماجی زندگی کے راستے میں نا قابل حل مشکلات حائل ہو جائیں گی۔