تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 416
جس میں صرف غیر مسلم ۲۴ کی اکثریت میں ہوں ارد گرد کے مسلمان اکثریت کے علاقے اور قادیان کے درمیان جس میں قریباً چودہ ہزار مسلمان ہیں، روک نہیں سمجھا سکتا۔اس کے علاوہ ہم نے پہلے ہی اس بات پر زور دیا ہے کہ گاؤں مناسب اکائی نہیں لیکن اگر گاؤں کو یونٹ قرار دیتا ہے تو پھر یہ یونٹ بطور قاعدہ سارے پنجاب میں استعمال ہونا چاہیئے۔لیکن گاؤں کو یونٹ تسلیم کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ صو بے کو نہایت ہی بجھے طور پر نامناسب، اور تانکم ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔نقشوں کے پانچ سیٹ ہو تحصیل ، تھانے ، قانوں کو سرکل اور ذیل کی بناء پر تیار کئے گئے ہیں ضمیر ما کے طور پر ساتھ شامل کئے بجاتے ہیں تاکہ بآسانی بطور حوالہ استعمال کئے جاسکیں۔ہم پہلے ہی بالو ضاحت بتا چکے ہیں کہ " دیگر امور صرف اس وقت زیر غور لانے چاہئیں جب مقدر فاصل کی تعیین میں معمولی تفصیلات کا فیصلہ کیا جا رہا ہو۔اس لئے اگر گاؤں کو یونٹ قرار دیا جائے تو دیگر امور کے اس اصول کو جائز طور پر استعمال کر کے اس صورت میں قادیان کا تسلسل دوسری مسلم اکثریت کے علاقوں کے ساتھ معمولی طور پر ٹوٹتا ہے۔اُسے دیگر امور کے اصول کو جائز طور پر استعمال کر کے دور کیا جاسکتا ہے۔ہماری رائے میں اور بھی بہت سے دیگر امور " ہمارے اس دعوے کی حمایت میں پیش کئے جا سکتے ہیں که قادیان مغربی پنجاب کا حصہ ہونا چاہیئے۔ان قادیان سلسلہ احمدیہ کا مرکز اور صدر مقام ہے اور اسے معمولی مذہبی مقامات سے بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے سیکھوں اور بہندوؤں کے مقدس مقامات کو جو تقدیں حاصل ہے وہ فرقہ وارانہ روایات کی بناء پر ہے لیکن قادیان کی تقدیں اور عظمت کی بنیاد خدا تعالیٰ کے الہام اور گذشتہ انبیاء کی بہت سی پیشگوئیوں پر ہے۔جماعت احمدیہ کے افراد کی نگاہ میں قادیان کی تقدیس مکہ اور مدینہ کی تقدیس سے دوسرے درجہ بچہ ہے حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کے مقدس مقامات کے سوا اور کوئی ایسا مقام نہیں جس کی تقدیس مذہبی کتب یا خدا تعالیٰ کے الہام پر مبنی ہو جیسا کہ مکہ اور مدینہ کو سب نبیوں کے سردار حضرت محمد صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وجہ سے غیر فانی تقدیں حاصل ہوئی ہے۔قادیان نے بھی یہ تقدیس آنحضرت کے روحانی شاگرد اور جانشین تحریک احمدیت کے بانی حضرت احمد کے طفیل اسلام کی خدمت کے لئے حاصل کی ہے۔بانی سلسلہ احمدیہ جنہوں نے قادیان کو اس تحریک کا مرکز قرار دیا ہے اچھریوں کے نزدیک آخری زمانے کہ وہ عظیم الشان مصلح ہیں جن کے وجود میں حضرت مسیح