تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 415
رام کا کام یہ ہوتا ہے کہ پولیس اور محکمہ مال کے افسروں کی عام طور پر مدد کرے۔ذیل بھی ایک غیر مناسب اکائی ہے۔لیکن اگر بونڈری کمشن ذیل کو ہی ایک یونٹ کے طور پر ماننے کے لئے تیار ہو توپھر گر ذیل میں جس میں قادیان شامل ہے مسلمانوں کی اکثریت ۶۱۶۱۰ نر ہے۔در حقیقت قادیان کے مشرق میں دریاے بیاس تک اور مغرب میں بٹالہ تک تمام ذمیں ایسی ہیں جن میں مسلمانوں کو اکثریت حاصل ہے۔الفرض کریں کو بھی تقسیم کے لئے یونٹ تسلیم کر لیا جائے تو پھر بھی قادیان ضرورہ مغربی پنجاب میں شامل ہونا چاہیئے۔ذیل سے بڑی یونٹ (اکائی) قانونگو کا علاقہ ہوتا ہے۔اس یونٹ میں ستر سے اسی گاؤں شامل ہوتے ہیں اگر اس یونٹ کو تقسیم کے لئے اکائی مانا جائے تو پھر بھی قادیان لازمی طور پر مغربی پنجاب میں شامل رہتا چاہیئے کیونکہ قادیان کے قانونگو کے حلقہ میں مسلمانوں کو ۲۴ ۵۴ خبر کی اکثریت حاصل ہے۔دراصل قادیان سے بیاس تک ایسے حلقوں میں مسلمانوں کی واضح اکثریت ہے۔قانونگو کے حلقے سے بڑا حلقہ تھانے کا حلقہ ہے۔سو اس کی حیثیت انتظامی ہوتی ہے۔۔عام لوگوں کے لئے اس حلقہ کو یونٹ تسلیم کرنے سے لامتناہی مشکلات کا سامنا ہو گا لیکن اگر تھانے کو ہی یونٹ تسلیم کرنا ہے تو پھر بھی قادیان مغربی پنجاب میں شامل ہونا چاہیے کیونکہ بٹالہ کے تھانے میں جس میں قادیان واقع ہے مسلمانوں کی تعداد ۵۵۶۹۸ بر ہے۔بٹالہ کے شمال مشرق میں جو تھانہ ہے اس میں بھی مسلمانوں کی اکثریت ہے۔صرف تھا نہ سری گوبند پور میں جو قادیان سے جنوب مشرق میں ہے غیر مسلم اکثریت میں ہیں۔لہذا قادیان لازمی طور پر مغربی پنجاب میں شامل ہونا چاہیئے خواہ تقسیم کا یونٹ ضلع ہو یا تحصیل ، تھانہ ہو یا حلقہ قانونگو یا ذیل۔اسے مغربی پنجاب سے بعدا کرتا حد درجے کی نا انصافی اور غیر دانشمندانہ اقدام ہوگا۔لیکن اگر گاؤں کو تقسیم کا یونٹ قرار دیا جائے تو قادیان کی پوزیشن ذرا مختلف ہو جاتی ہے۔بٹالہ سے شروع کر کے ہم گاؤں یہ گاؤں جائزہ لیں تو لگاتار مسلمانوں کے اکثریت والے گاؤں آتے ہیں صرف قادیان کے شمال میں ایک گاؤں میں غیر مسلموں کی تعداد مسلمانوں سے بقدر ۲۴ زیادہ ہے۔وہاں قادیان کی جانب ایک سالم گاؤں مسلمانوں کا ہے۔اس کے بعد قادیان آتا ہے جس میں یہ کی مردم شماری کی رُو سے دس ہزار سے زیادہ آبادی ہے۔لیکن اس وقت اس کی آبادی پندرہ ہزار سے زائد ہے اور اس میں مسلمان اکثریت ۹۰ بر سے زیادہ ہے۔اس لئے یہ معقول دلیل ہے کہ ایسا گاؤں۔