تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 417
۴۰۵ علیہ السلام کی بعثت ثانیہ کی پیشگوئی پوری ہوتی ہے نیز وہ حضرت رسول کریم کے رُوحانی شاگرد اور ان کے خدا تعالے کی طرف سے مقرد کر دہ خلیفہ ہیں اور ان کے وجود میں وہ تمام پیشگوئیاں پوری ہوتی ہیں جو گذشتہ انبیاء نے آخری زمانہ کے متعلق کی ہیں۔اس لئے ہمارے نزدیک ہندوستان کے کسی اور مذھبی مقام کا تقدین کے لحاظ سے قادیان مقابل نہیں کیا جا سکتا۔دوسرے فرقے بے شک اس وقت تعداد میں زیادہ ہیں لیکن میں اصول پر ان کے مذہبی مقامات کو تقدیس حاصل ہے وہ اس سے بالکل مختلف ہے جس کی بنار چہ احمدیوں کے مرکز کی تقدیس کا انحصار ہے۔یہی وجہ ہے کہ کسی دوسرے فرقے کو اپنے مرکز سے وہ لگاؤ نہیں جو احمدیوں کو قادیان سے ہے۔اس وقت ہندوستان میں احمدیوں کی تعداد قریباً ہ لاکھ ہے۔مگر اُن احمدیوں کی تعداد جو جلسہ ساتھ کے موقعہ پہ قادیان میں جمع ہوتے ہیں دوسرے مذاہب کے اسی قسم کے اجتماعوں کے مقابلہ میں نسبتاً بہت زیادہ ہے یہاں تک کہ محکمہ ریلوے کو زائرین کی آمد و رفت کے لئے پچار دن تک سپیشل گاڑیاں چلانی پڑتی ہیں۔دُور دراز کے علاقوں سے لوگ ہجرت کر کے قادیان آباد ہوتے رہتے ہیں۔یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ جبکہ اسی صدی کے شروع میں قادیان کی آبادی صرف چند نفوس پر مشتمل تھی اس وقت یه آبادی ۱۴۰۰۰ سے کم نہیں اور یہ صرف ہندوستان کے مختلف علاقوں کے لوگوں پر ہی مشتمل نہیں بلکہ غیر مالک کے لوگ بھی یہاں آکر آباد ہوئے ہیں اور سوسائٹی کے ہر طبقہ کے لوگوں کی یہ شدید خواہش ہوتی ہے کہ وہ اسلام کی خدمت کے لئے زندگی وقف کر کے قادیان آکر آباد ہوں۔دنیا کے تمام علاقوں سے لوگ یہاں مذہبی اور روحانی تربیت کے لئے آتے ہیں۔اس میں شک نہیں کہ ہندو و کی تعداد میں کروڑ اور سکھوں کی پچاس لاکھ کے قریب ہے لیکن ہندوستان سے باہر تبدیلی مذہب کر کے مزید اقوام کے لوگ ان میں شامل نہیں ہوتے۔لیکن سلسلہ احمدیہ کی شاخیں امریکہ ، کینیڈا، اروجن ٹائنا ، انگلستان ، فرانس ، سپین، اٹلی ، شام، فلسطین، ایران ، افغانستان ، چین، لنکا، ماریشس ، برما ، ملایا ، انڈونیشیا ، کینیا ، ٹانگانیکا ، یوگنڈا ، ابی سینیا ، سوڈان، نائیجیریا ، گولڈ کوسٹ اور سیرالیون میں پائی جاتی ہیں۔بعض غیر ممالک میں مقامی جماعتوں کی شاخیں سینکڑوں کی تعداد میں ہیں۔ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں ہزاروں کی تعداد میں امریکین شہری احمدیت کے معتقد ہیں۔اس وقت بھی قادیان میں ایک انگریز سابق لیفٹیننٹ اور ایک