تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 414
۴۷۰۲ تمنا یہ بات بھی قابل تذکرہ ہے کہ اس تحصیل کے کچھ حصے ریاست کیبہ کی ملکیت ہیں اور ان میں ہندو ری کی غالب اکثریت ہے۔اگر ان علاقوں کو بیدا کر دیا بہائے تو دوسرے حصوں کی اکثریت میں معتند یہ کمی آ جائے گی۔اگر کمشن کے آخری فیصلہ میں مسلمانوں کی عظیم اکثریت والی تحصیلیں جو عارضی تقسیم میں مشرقی پنجاب میں شامل کردی گئی ہیں پاکستان کو واپس نہ ملیں تو پٹھانکوٹ ہندوستان کو دیئے جانے کا سوال ہی پیدا نہ ہو گا۔کوم۔اگلا سوال یہ ہے کہ اگر تقسیم کی اکائی ایک تحصیل سے کم علاقہ قرار دیا جائے تو اس کا قادیان اور اس کے ملحقہ علاقہ پر کیا اثر ہو گا؟ اس کے متعلق ہم یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ تقسیم کی اکائی یا تو ضلع ہویا تحصیل تحصیل سے کم اکائی سے مطلب حاصل نہ ہو گا۔کیونکہ (1) اگر تقسیم کی اکائی تحصیل سے کم ہو تو ملک کی حفاظت اور اندرونی تجارت پر کنٹرول زیادہ مشکل ہو جائے گا۔(ب) وائسرائے کے اعلان میں ۱۹۴۱ کی مردم شماری کے اعداد و شمارہ کو تسلیم کیا گیا ہے اور مردم شماری کی رپورٹ میں تحصیلوں سے کم علاقوں کے اعداد نہیں ہیں۔اس لئے یہ ظاہر ہے کہ جب مردم شماری کی رپورٹ کو آبادی کی بنیاد قرار دیتا ہے تو پھر تقسیم کی اکائی یا ضلع چاہیے یا تحصیل جس کے اعداد مردم شماری کی مطبوعہ رپورٹ میں درج ہیں۔(ج) اگر ہم بغرض بحث یہ فرض کر لیں کہ بونڈری کمیشن تقسیم کی خاطر تحصیل سے کم علاقہ کو اکائی کے طور پر استعمال کرے تو ایسی اکائی صرف تھانہ ہو سکتا ہے یا گرد اور کا حلقہ یا ذیل یا گاؤں۔پس اگر گاؤں کو کائی قرار دیا جائے تو مسلم علاقے امرتسر، فیروز پور ، جالندھر، ہوشیار پور ، لدھیانہ اور انبالہ کے اضلاع میں کیکڑنے کے بہت سے پنجوں کی طرح پھیل جائیں گے۔اسی طرح غیر مسلم علاقے ٹکڑوں میں لاہور اور گورداسپور کے اضلاع میں مل جائیں گے۔اس قسم کی تقسیم قیام امن کے لئے مفید نہیں۔اس سے سر بعد پر رہائش کی تکالیف میں اضافہ ہوگا۔اس سے ذرا بڑی اکائی ذیل ہے۔ذیل میں پچاس ساتھ گاؤں شامل ہو تے ہیں۔ذیل کا فائدہ صرف یہ ہے کہ دیہات کو اطلاع اور گورنمنٹ کے اعلانات پہنچانے میں آسانی ہوتی ہے۔بیلدار کوئی گورنٹ کا ملازم نہیں ہوتا بلکہ عرف ایک زمیندار ہوتا ہے جو اعزازی طور پر ذیلدار کی حیثیت میں کام کرتا ہے اُسی