تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 342 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 342

۳۳۱ جو عالم الغیب ہے اور تمام رازوں کو جاننے والا ہے اس نے یقیناً ان لوگوں کے ایثار اور ان کی قربانی کو دیکھا ہے اور خدا کی درگاہ سے یہ لوگ بدلہ لئے بغیر نہیں رہیں گے کیونکہ خدا کسی کا اجر ضائع نہیں کرتا مضمون تو اور بھی بیان کرنا تھا۔مگر چونکہ وقت زیادہ ہو گیا ہے اس لئے اسی پر ختم کرتا ہوں“ اے تحریک پاکستان کے اعتبار سے مسلم لیگ کا عبوری مسلم لیگ نے پاکستان کی آئینی جنگ جیت لی صورت میں شمولیت اخیر کی سنت کے ارارات کے بعد سب سے بڑا معرکہ ہے کیونکہ مسلم لیگ نے اس کے نتیجہ میں صرف سوا چار ماہ کے اندر اندر پاکستان کی آئینی جنگ جیت لی اور کانگرس کا یہ دیرینہ خواب کہ وہ مسلم لیگ کو نظر انداز کر کے اپنی اکثریت کے بل بوتے پر تنہا ملک کے نظام حکومت کو چلائے گی ہمیشہ کے لئے دھرے کا دھرا رہ گیا اور برطانوی حکومت کو بالآخر مطالبہ پاکستان کے سامنے ہتھیار ڈال دینا پڑے۔جیسا کہ اشارہ ذکر آچکا ہے جب تک مسلم لیگ عبوری حکومت سے باہر تھی کانگرسی حلقے خوشی کے شاد ینے بجا رہے تھے مگر جو نہی مسلم لیگ نے اس میں داخلہ قبول کر لیا ان سخت سرامیگی طاری ہوگئی ، اور انہیں بھی پاکستان کی منزل صاف قریب آتے دکھائی دینے لگی بچنا نچہ ملاپ نے صاف لفظوں میں رائے دی کہ یں سمجھتا ہوں یہ جواہر لال جی اور اُن کے ساتھیوں کے جوشش آزادی کو تار پیڈرو کرنے کا جتن ہے اخبار پرتاپ“ نے یہ نوٹ لکھا کہ " لیگ وائسرائے کی پیشکش کو قبول کر کے حکومت میں شامل ہو رہی ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اُسے پانچ نمائندے نامزد کرنے کا ادھیکار ہوگا محکموں کی تقسیم از سر نو ہوگی اور وائسرائے اس بات کے لئے ذمہ دار ہوں گے کہ نئی حکومت کثرت کے بل بوتے پر اس کی رائے کو مسترد نہیں کرتی میسر ھینا کا کہنا یہ ہے کہ لیگ حکومت میں شامل ہو رہی ہے تو منہ کے آئین کے ماتحت جس میں وائسرائے سب کچھ ہے اس کے ممبر اس کے مشیر ہیں اور نہیں۔ہر ایک نمبر اپنے اپنے محکمہ کے لئے ذمہ دار ہے اور وائسرائے کے مشورہ سے سب کچھ کر سکتا ہے۔نہرو وزارت نے مشترکہ ذمہ داری کے اصول الفضل در نبوت / نومبر میش صفحه ۴ تا ۱۶ سے بحوالہ ” نوائے وقت" ۱۹ اکتوبر ۱۹۴۶ صفحه ۳ کالم ۳ :