تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 341 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 341

۳۳۰ سیٹیں بھی بُک کرا چکے تھے۔مگر بدھ کے دن ہمیں معلوم ہوا کہ مصالحت کی گفتگو میں خوابی پیدا ہو رہی ہے۔چونکہ ہمارے تعلقات تمام لوگوں کے ساتھ تھے۔اس لئے قبل از وقت ہمیں حالات کا علم ہو جاتا تھا۔جب مجھے معلوم ہوا کہ کام بگڑ رہا ہے۔تو میں نے پھر دوستوں کو بلایا اور ان سے مشورہ لیا اور انہیں کہا کہ ہم اتنی مدت یہاں رہے ہیں۔اب ہمیں پیر تک اور ٹھہرنا چاہئیے۔پہلے تو اتوار تک ٹھہرنے کا ارادہ تھا لیکن معلوم ہوا کہ اتوار کو گاڑی ریزرو نہیں ہو سکتی۔اس لئے ہم نے پیر کے دن چلنے کا فیصلہ کیا اور عین پیر کے دن صبح کے وقت فیصلہ ہو گیا اور ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے اس جھگڑے کو نپٹا کر اپنے گھر واپس آئے۔اس سفر میں یہ ایک نہایت ہی خوشی کی بات مجھے معلوم ہوئی ہے کہ وہ مسلمان تو اپنے تفرقہ اور نکتے پن کی وجہ سے مشہور ہیں اُن میں بھی اب اخلاص اور بیداری پیدا ہو چکی ہے اور وہ اپنے فرائض کو سمجھنے لگ گئے ہیں بچنا نچہ نواب صاحب چھتاری ، سر آغا خاں اور سر سلطان احمد نے نہایت بے نفسی کے ساتھ اس موقعہ پر کام کیا ہے۔میں سمجھتا ہوں اگر اُن کی بے نفسی اور مسلمانوں کی خیر خواہی کا حال پبلک کو معلوم ہو جائے تو وہ اُن کی قدر کئے بغیر نہ رہے پھر سب سے زیادہ کام نواب صاحب بھوپال نے کیا۔یہ الگ بات ہے کہ اسلامی تعلیم کی رو سے سب انسان برابر ہیں کوئی چھوٹا بڑا نہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ جن لوگوں کی دیجہ سے عزتیں قائم ہو چکی ہیں وہ معمولی کام کرنے سے بھی گھبراتے ہیں۔لیکن نواب صاحب نے باوجود ایک مقتدر ریاست کا نواب ہونے کے جو ادنیٰ سے ادنی کام بھی ان کو کرنا پڑا انہوں نے کیا۔یہانتک کہ منتیں بھی کیں۔وہ گاندھی جی کے پاس گئے اور بھنگی کالونی میں اُن سے ملاقات کی پہلی ملاقات بے شک بڑودہ ہاؤس میں ہوئی تھی اور نواب صاحب کے مشیر نے کہا تھا کہ ہم یہ پسند نہیں کر سکتے کہ نواب صاحب بھنگی کا لونی میں جائیں۔لیکن بعد میں انہوں نے یہ بھی پسند نہیں کیا کہ صرف بڑودہ ہاؤس میں ملاقات ہو بلکہ خود ان کے گھروں پر گئے۔اور رات اور دن کوشش کی کہ کسی طرح ملح ہو جائے۔یہ علامت ہے اس بات کی کہ اب مسلمانوں میں بھی قربانی اور بیداری کے آثار پیدا ہو رہے ہیں۔خواہ دنیا کی نگاہ سے نواب صاحب بھوپال نواب صاحب چھتاری ، سر سلطان احمد اور سر آغا خاں کی قربانی او جھیل رہے مگر اللہ تعالیٰ