تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 343
۳۳۲ پر کام شروع کیا تھا۔مسٹر جینا نے کہہ دیا ہے کہ لیگ مشترکہ ذمہ داری کے اصول کو نہیں مانتی۔۔مسلم لیگ کی شمولیت کے تین نتیجے ہو سکتے ہیں (۱) اکثریت کے ساتھ مل کر کام کرے ۰۰ (۲) مزاحمت کرے۔اس پر گورنمنٹ ٹوٹ بھائے یا کانگرس اس سے نکل جائے۔(۳) گورنمنٹ ٹوٹ جائے تو لیگ کا مقصد حل ہو گیا اور اگر کانگریس کے نکل آنے پر گورنمنٹ نے حکومت لیگ کے حوالے کر دی تو پو بارہ ہو گئے " پ تاپ “ نے اپنے ایک اور ادارتی نوٹ میں لکھا کہ " عارضی حکومت میں لیگ کی شمولیت سے وہ عمارت جو پنڈت جواہر لال اور ان کے رفقاء نے اپنی تقریروں کے ذریعے قائم کی تھی خود بخود گر پڑے گی کیسی بھی مسئلہ پر ہندوستانی پالیسی کا تصور تباہ ہو جائے گا“ کے ہندو پریس کے بالمقابل برطانوی اخبارات نے مسلم لیگ کی اس تاریخی کامیابی کو خوب سراہا چنانچہ لندن کے مشہور روزنامہ ڈیلی ٹیلیگراف نے قائد اعظم کی خدمت میں مبارکباد پیش کی اور لکھا کہ اب کانگریس اور پنڈت و بھی احساس ہوگیا ہوگا کہ کےتعاون کے بغیر میں میں امن قائم نہیں نہرو کو کبھی یہ احساس ہو گیا ہو گا کہ مسلمانوں کے تعاون کے بغیر سہندوستان میں صحیح معنوں میں امن قائم نہیں ہو سکتا ہے انڈونیشین ری پبلک کے وزیر اعظم ڈاکٹر سلطان شہریار نے قائد اعظم محمد علی جناح کو ایک پیغام میں سہندوستان کی مرکزی حکومت میں شمولیت پر اظہار مسرت کیا اور لکھا کہ ہمیں امید ہے کہ مرکزی حکومت میں مسلم لیگ کی شمولیت سے ہندوستان کی مکمل آزادی کرونگا قریب تر ہو جائے گی ھے چنانچہ آئندہ پیش آمدہ واقعات نے ثابت کر دیا کہ ہندوستان کی مکمل آزادی جو قائد اعظم کی اصطلاح میں پاکستن کا دوسرا نام تھا) واقعی آن پہنچی ہے۔ہوا یوں کہ قائد اعظم کے اس واضح اعلان کے باوجود کہ ہم مشترک ذمہ داری کے اصول کو تسلیم نہیں کرتے اور نہ کوئی فرد واحد اس عارضی حکومت کا لیڈر ہے جناب پنڈت جواہر لال نہرو نے بحوالہ "نوائے وقت" ۱۶ اکتوبر ۱۹۴۶ صفحه ۳ : " صفحه ۴ کالم : مستمر اسکالم و صفحه ۱ کالم ۴ " " ت قائد اعظم" وطبع دومی صفحه ۶۵۴) از چودھری سردار احمد خان) و PR