تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 329
ا اگر راست اقدام شروع کیا گیا اور خدانخواستہ اس کا مقصد پورا نہ ہوا یا اس کی عملی شکل میں نقائص رہ گئے تو اس کا اثر مسلم لیگ پر انتہائی بُرا ہوگا اور اس کی ساکھ اور عزت و تکریم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچیگا ابتدا است امامی پروگرام کی بہشت کو انتہائی احتیاط سے ترتیب دینا ضروری ہے۔ہیں فریق مخالف کی قوت کے متعلق کوئی غلط اندازہ نہیں لگانا چاہئیے اور نہ اپنی صلاحیتوں کے متعلق کوئی مبالغہ آمیز رائے قائم کرنی چاہیئے۔۔کوئی بھی کام ملت میں نہیں ہونا چاہیے اور ان طاقتوں کا صحیح اور مکمل اندازہ ہونا چاہیئے جو راست اقدام کے شروع ہوتے ہی مسلمانوں کے خلاف حرکت میں آجائیں گی۔کم بوب راست اقدام کا فیصلہ کر لیا جائے تو پھر پوری کوشش اور انتہائی سرگرمی اور استقلال کے ساتھ اس کے پروگرام پر پورا پورا عمل ہونا چاہیئے تا کہ اس کی کامیابی یقینی ہو جائے اور ایک اندھا بھی اس کو دیکھ لے کہ جو کچھ کہا گیا تھا اس پر پوری طرح عمل کیا گیا ہے۔راست اقدام کے پروگرام میں کسی قسم کے تذبذب یا شش و پنج کی کیفیت نہیں ہونی چاہیئے۔امل ہو۔عزم پختہ ہو اور تخت یا تختہ والا معاملہ ہو۔جناب صوفی عبد القدیر صاحب کا بیان ہے کہ میں نے دہلی میں جناب نو ابنما وہ لیاقت علی خاں صاحب سے ملاقات کی۔ان کے حسن تدبیر، لیاقت اور معاملہ نہی کا میرے دل پر خاص اثر ہوا۔میں نے محسوس کیا کہ جو اہم امور میں اُن کی خدمت میں حاضر ہو کر گوش گذار کرنا چاہتا تھا انہیں اُن کی اہمیت کا پہلے ہی کافی احساس ہے اور مجھے یہ معلوم کر کے اور بھی مسرت ہوئی کہ محترم خواب صاحب حضرت خلیفقه السيح الثاني المصلح الموعود امام جماعت احمدیہ کی ان کوششوں کو یہ نظر استحسان دیکھتے تھے جو حضور مسلمانوں کی قومی مشکلات کو دور کرنے کے لئے شب و روز کر رہے تھے۔ان تمام باتوں نے میرے دل میں یہ احساس پیدا کیا کہ محترم جناب لیاقت علیخاں ایک زیرک انتہائی سمجھ دار اور نہایت ہی متوازن دل و دماغ کے آدمی ہیں جو وقت اور معالات کے تقاضوں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔راست اقدام کے جن دوسرے ممبروں سے میری ملاقات ہوئی اُن میں محترم خواجہ ناظم الدین صاحب، سردار عبد الرب صاحب نشتر اور نواب اسماعیل خان صاحب میر بھی مجھے خوب یاد ہیں ہے۔لہ یہ واقعہ جناب صوفی عبد القدیر صاحب کی اہم یادداشت سے ماخوذ ہے۔اصل یادداشت انگریزی میں ہے ؟ له