تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 330 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 330

۳۱۹ فصل پنجم حضر مفصل مواد کا سفر ملی اورمسلم لیگ کو بوری حکم میں شال کرانے کی کامیا کوشیش اور زیراعظم اٹلی کی رو سے بر فروری کو مکمل آزاد کا واضح اعلان ملکی قضاء روز بروز پہلے سے زیادہ مکدر ہو رہی تھی اور کلکتہ اور بیٹی کے فسادات کے اثرات ملک کے گوشہ گوشہ میں پھیلتے بھا رہے تھے اور دور رس نگاہ رکھنے والے مارتے دیکھ رہے تھے کہ یہ آگ بڑھتے بڑھتے سارے ہندوستان کو اپنی پیٹ میں لے لے گی اور اس کی زد سے کوئی شہر کوئی قریہ اور کوئی گاؤں محفوظ نہیں رہے گا۔اس ماحول میں مسلمانوں کی مہنتی سب سے زیادہ خطرہ میںتھی کیونکہ اقتدار پر کانگرس کا قبضہ ہوچکا تھا مسلمانوں کی جیتی ہوئی جنگ بظاہر شکست میں بدلتی نظر آرہی تھی اور مسلم لیگ کے لئے آبرومندانہ طور پر عبوری حکوت میں داخلہ کے راستے مسدود ہو گئے تھے۔سید رئیس احمد جعفری کے بقول مسلم لیگ نے اگر چہ حالات سے مجبور ہو کہ جنگ کا فیصلہ کر لیا تھا لیکن وہ صلح پر اب بھی تیار تھی۔قائد اعظم نے ایک بیان میں فرمایا کہ ہم نے اگر چہ مجبور ہو کہ جنگ کا فیصلہ کر لیا ہے لیکن ہم صلح پر اب بھی تیار ہیں۔کانگرس یا حکومت کی طرف سے پہل اور پیش قدمی ہونی چاہیے۔اگر ہمارا جائزہ اور معقول مطالبہ مان لیا گیا تو ہم بلا تامل جنگ کے خیال سے دستبردار ہو جائیں گے اور صلح کر لیں گے۔مگر صلح کی تحریک کسی طرف سے نہیں ہوئی بلکہ مسلم لیگ کے اعلان جنگ کا فراق اُڑایا گیا اور اعلان کیا گیا کہ یہ محض گیدڑ بھبکی ہے حکومت سے ٹکر لینا آسان نہیں۔یہ عیش و عشرت کے خوگر لوگ جنگ نہیں لڑسکتے۔اور اگر لڑیں گے تو ہار جائیں گے۔اس لئے کہ حکومت بھی ان کے مقابلہ کیلئے چوکس ہے اور وہ ڈٹ کر ان نئے سرکشوں اور باغیوں کا مقابلہ کرے گی بلہ مایوسی اور نا امیدی کے اس تاریک ترین ماحول میں اللہ تعالیٰ نے سید نا الصلح الموعود کو خبر دی کہ اس له " قائد اعظم اور اُن کا عہد" صفحہ ۷۳۹-۰۷۴۰