تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 322
۳۱۱ ملک کی ذہنیت غلامانہ ہے ایسی باتیں چل جائیں گی۔لیکن جب حریت کی ہوا لوگوں کو لگی ایسے غلط نظریوں کے خلاف نفرت کے جذبات بھڑک اٹھیں گے تبدیلی تو ہو کر رہے گی لیکن جو لوگ اس تنگ ظرفی کے ذمہ دار ہوں گے وہ ہمیشہ کے لئے اپنی اولادوں کی نظروں میں ذلیل ہو جائیں گے۔وہ فطرت کے اس تقاضا کو اس حقیقت سے سمجھ بھی سکتے ہیں کہ بادشاہ اورنگ زیب کو سب سے زیادہ بدنام کرنے والا وہ غلط الزام ہے کہ اس نے مذہب میں دست اندازی کی۔ان کا یہ خیال کہ ہم دوسرے کا مذہب بدلوانے پر زور نہیں دیتے ایک غلط خیال ہوگا کیونکہ بدھ ، کرشن ، عیسی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت کے لوگ بھی دوسرے کا مذہب نہیں بدلواتے تھے۔اُن کو تبلیغ سے اور اپنے ہم مذہبوں کو مذہب تبدیل کرنے سے روکتے تھے اور تبلیغ کرنے والوں ، مذہب تبدیل کرنے والوں کو سزائیں دیتے تھے۔اگر ایسا ہی ارادہ آپ لوگوں نے کیا تو اسی لعنت کے آپ حصہ دار ہوں گے جس لعنت کا بوجھ ان پہلوں پر پڑ چکا ہے۔خلاصہ یہ کہ یہ وقت ایسا نہیں کہ غلط اور سنی سنائی باتوں کو لے کر پبلک میں ہیجان پیدا کیا جائے یا پارلیمینٹری میشن پر اثر ڈالنے کی کوشیش کی جائے۔کوئی خدا کو مانے یا نہ مانے مگر فطرت صحیحہ کی مخالفت کہ بھی اچھا نتیجہ پیدا نہیں کرتی۔یہ وقت سنجیدگی سے اس امر پر غور کرنے کا ہے کہ کس طرح ہمارا ملک آزاد ہو سکتا ہے۔اور کس طرح ہر قوم خوش رہ سکتی ہے۔اگر ایسا نہ ہوا تو ہم صرف قید خانہ بدلنے والے ہوں گے۔میں نے اس مخلصانہ مشورہ میں صرف اشارات سے کام لیا ہے۔اگر مجھے مزید وضاحت کی ضرورت ہوئی تو ملامت کرنے والوں کی سلامت سے بے پروا ہو کر میں انشاء اللہ اپنا مخلصانہ مشوره میشن یا پبلک کے اس حصہ کے آگے پیش کروں گا جو سننے کے لئے کان اور سوچنے کے لئے دماغ رکھتا ہے۔اللہ تعالے سے بڑھا ہے کہ وہ پارلیمینٹری وفد کو بھی اور ہندو ، مسلمان اور دوسری اقوام کے نمائندوں کو بھی صحیح راستہ پر چلنے کی توفیق بخشے۔آمین۔خاکسار مرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ قادیان ه پارلیمنٹری مشن اور مسل لیگی اور کانگریسی لیڈروں کی ہی بحث و عارضی سکون کے قیام کا الان کا تخصیص اور گفت و شنید تقریباً دو ماہ تک جاری رہی مگر اب بھی کوئی " - الفضل " در شہادت اپریل بیش صفحه اتا و