تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 323
۳۱۳ مفاہمت نہ ہوسکی میں پر پارلیمنٹری میشن نے وائسرائے سے مشورہ کے بعد ۱۶ جون ۱۹۸۶ء کو ملک میں عارضی حکومت سے متعلق مندرجہ ذیل اعلان شائع کیا :- کچھ عرصہ سے ہز ایکسیلنسی وائسرائے وزارتی مشن کے ارکان کے مشورہ سے ایک انیسی حکومت مشترکہ کی تشکیل کے امکانات تلاش کر رہے تھے جوبڑی جماعتوں اور بعض اقلیتوں کے نمائندوں مشتمل ہو۔ایسی حکومت کی تشکیل میں دونوں بڑی جماعتوں کے باہمی سمجھوتہ میں جو دشواریاں تھیں وہ گفت و شنید میں ظاہر ہوئیں۔(۲) وائسرائے اور وزارتی مشن کو ان دشواریوں اور وقتوں کا احساس ہے اور ان کو ششوں کا بھی اندازہ ہے جو دونوں جماعتوں نے ان کو حل کرنے کے واسطے کیں۔وائسرائے اور مشن کا خیال ہے کہ اس بحث اور گفت و شنید کو طوالت دینے سے کوئی مفید نتیجہ برآمد نہیں ہو سکتا۔یہ نہایت ضروری ہے کہ ایک قومی اور نمائندہ عارضی حکومت بناد کی بجائے تا کہ نہایت ضروری اور اہم کام کئے جاسکیں۔(۳) وائسرائے اس مقصد کے لئے حسب ذیل حضرات کے نام دعوت نامے جاری کر رہے ہیں کہ وہ عارضی حکومت کے ارکان کی حیثیت سے کام کریں اور ۶ ارمنی سہ کے بیان کے مطابق آئین سازی کا کام شروع کر دیں۔(۱) سردار بلدیو سنگھ (۲) سر این پی انجنیر (۳) مسٹر جگجیون رام (۴) پنڈت نہرو (۵) مسٹر محمد علی جناح (۲) نواب زادہ لیاقت علیخاں (6) مسٹرایکا کے مہنا (۸) ڈاکٹر جان متھائی (4) نواب محمد اسمعیل خان (۱۰) خواجہ سر ناظم الدین (۱۱) سردار عبدالرب خال نشتر (۱۲) مسٹرسی را جگو پال اچاریہ (۱۳) ڈاکٹر را میندیر پرشاد (۱۴) سردار ولبھ بھائی پٹیل اگر ان لوگوں میں سے کوئی شخص ذاتی وجوہ کی بناء پر اس دعوت کو قبول نہ کر سکیں تو والے مشورہ کے بعد ان کی جگہ کسی دوسرے شخص کو الو کریں گے۔(۴) وائسرائے شعبوں کی تقسیم دونوں بڑی جماعتوں کے مشورہ سے کریں گے۔(۵) عارضی حکومت کی تشکیل کو کسی فرقہ وارانہ سوال کا حل نہ تصور کیا جائے۔اس کا مقصد