تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 321
٣١٠ وہ سر فیروزمنان اور میجر عاشق حسین ہیں۔اگر ان کو بھی بڑے زمینداروں میں شامل کر لیا جائے تو یو شینیٹ پارٹی جو کانگریس کی حلیف ہے اس کے ممبروں میں سے پچاس فیصدی بڑے زمینداروں کے مقابلہ پر لیگ کے 19 میں سے کچھ بڑے زمیندار صرف ساڑھے سات فیصدی ہوتے ہیں۔اور کیا یہ نسبت اس بات کا ثبوت کہلا سکتی ہے کہ کوئی پارٹی بڑے زمینداروں کی پارٹی ہے۔بڑے زمینداروں کا طعنہ مدت سے کانگریس کی طرف سے مسلمانوں کو دیا جاتا ہے۔حالانکہ بڑا خواہ زمیندار ہو یا تاجر، اگر وہ بوئے معنوں میں بڑا ہے تو ہر شکل میں کیا ہے۔لیکن اگر وہ اپنے حلقہ کا نمائندہ ہے تو جب تک ملک کا قانون اس کی دولت اس کے پاس رہنے دیتا ہے اور جب تک کہ اس کا حلقہ اس کا انتخاب کرتا ہے وہ نمائندگی میں کسی دوسرے سے کم نہیں پنجاب میں گورنمنٹ رپورٹ کے مطابق صرت نیرو زمیندار ایسے ہیں جو آٹھ ہزار سے زیادہ ریونیو دیتے ہیں ریعنی جن کی آمد رائج الوقت مالگذاری کے اصول کے مطابق سولہ ہزار سالانہ سے زائد ہے۔اس سے کم آمد ہرگز کسی کو بڑا زمیندار نہیں بنا سکتی۔بلکہ یہ آمد بھی بڑی نہیں کہلا سکتی۔اتنی آمد تو معمولی معمولی دوکانداروں کی بھی ہوتی ہے گو وہ ٹیکس سے بچنے کے لئے ظاہر کریں یا نہ کریں۔زمیندار کا صرف یہی قصور ہے کہ وہ اپنی حیثیت ظاہر کرنے پر مجبور ہے، اُن میں غائب کچھ غیر مسلم بھی ہوں گے۔اگر سب مسلمان ہی ہوں تو بھی یہ کوئی بڑی تعداد نہیں۔اور جب یہ دیکھا جائے کہ یہ لوگ جس قدر ریونیو ادا کرتے ہیں وہ پنجاب کے گل ریونیو کے سویں حصہ سے بھی کم ہے تو صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ پنجاب کی اکثر زمین پھوٹے زمینداروں کے پاس ہے بڑے زمینداروں کے پاس نہیں ہے۔بڑا زمیندار صرف یو پی اور بنگال میں ہے۔لیکن وہاں کے بڑے زمینداروں میں اکثریت ہندوؤں کی ہے جن میں سے اکثر کانگرس کی تائید میں ہیں ، مگر اس کے بھی یہ معنے نہیں کہ ہندو اکثریت کانگرس کے ساتھ نہیں اور زمینداروں کے ساتھ شامل ہوتے ہوئے بھی کانگرس کی نمائندگی پر کوئی حرف نہیں آتا۔ایک نصیحت میں کانگریس کو خصوصاً اور عام ہندوؤں کو عموماً یہ کرنا چاہتا ہوں کہ شیخ مذہب اور تبدیلی مذہب کے متعلق وہ اپنا رویہ ہوتی ہیں۔مذہب کے معاملہ میں دست اندازی کبھی نیک نتیجہ پیدا نہیں کر سکتی۔وہ مذہب کو سیاست میں بدل کر کبھی چین نہیں پاسکتے۔تبلیغ مذہب اور مذہب بدلنے کی آزادی انہیں ہندوستان کے اساس میں شامل کرنی چاہئیے اور اس طرح اس تنگ ظرفی کا خاتمہ کر دینا چا ہیئے جو اُن کی سیاست پر ایک داغ ہے اور اس تنگی کو کوئی آزاد شخص بھی برداشت نہیں کر سکتا جب تک