تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 320
میں آئے اکثر بڑے زمیندار ہیں۔کیا بنتا ہے۔کیا عوام الناس کو یہ اختیار نہیں کہ وہ بڑے زمیندار کو اپنا نمائندہ مقرر کریں۔اس دلیل سے تو صرف یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ پنڈت نہرو صاحب کے نزدیک جنہوں نے یہ امر پیش کیا ہے مسلمان اپنا نمائندہ چھپنے کے اہل نہیں۔اگر اُن کا یہ خیال ہے تو دیانت داری کا تقاضا یہ ہے کہ وہ یوں کہیں کہ مسلمان چونکہ اپنے نمائندے چھننے کے اہل نہیں اس لئے موجودہ ملکی فیصلہ میں اُن سے رائے نہیں لینی چاہئیے۔اگر وہ ایسا کہیں تو خواہ یہ بات غلط ہو یا درست مگر منطقی ضرور ہوگی۔مگر یہ کہنا کہ مسلمانوں نے چونکہ اپنا نمائندہ چند بڑے زمینداروں کو چنا ہے اس لئے وہ لوگ موجودہ سوال کو حل کرنے کے لئے مسلمانوں کے نمائندے نہیں کہلا سکتے ایک ایسی غیر منطقی بات ہے کہ پنڈت نہرو جیسے آدمی سے اس کی امید نہیں کی جاسکتی۔اگر اُن کا یہ مطلب نہیں تو انہوں نے اس امر کا ذکر اس موقعہ پر گیا کیوں تھا۔در حقیقت ان کا یہ اعتراض ویسا ہی ہے جیسا کہ بعض مسلمان کہتے ہیں کہ مسٹر گاندھی عموماً مسٹر بولا کے مکان پر کیوں ٹھہرتے ہیں۔یقینا مسٹر گاندھی کو مسٹر بہ لا کے مکان پر ٹھہرنے کا پورا حق ہے کیونکہ وہاں اُن سے ملنے والوں کے لئے سہولتیں میسر ہیں۔اُن کے وہاں ٹھہرنے سے ہر گز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ مالداران کے قبضہ میں ہیں۔اسی طرح مسلم لیگ کے امیدوار اگر بڑے زمیندار ہوں اور مسلم پبلک ان کو منتخب کر لے تو اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ وہ لوگ مسلمانوں کے نمائندے نہیں ہیں۔اگر کوئی شخص اپنے لئے غلط قسم کا نمائنده چنتا ہے تو وہ اپنے کئے کی سزا خود بھگتے گا، دوسرے کسی شخص کو اس کے نمائندہ کی نمائندگی میں شہید کرنے کا حق نہیں۔یہ باتیں صرف لڑائی جھگڑے کو بڑھانے کا موجب ہوتی ہیں اور کوئی فائدہ ان سے حاصل نہیں ہوتا۔پھر یہ بات ہے بھی تو غلط کہ مسلم لیگ کے اکثر نمائندے بڑے زمیندار ہیں۔پنجاب ہی کو لے لو اس میں 4 مبر اس وقت مسلم لیگ کے نمائندے ہیں اور کچھ یونینسٹ پارٹی کے جن سے کانگرس نے سمجھوتہ کیا ہے۔یونینسٹ پارٹی کے چھ ممبروں میں سے ملک سر خضر حیات ، ملک سمرالہ بخش اور نواب مظفر علی بڑے زمیندار ہیں۔گویا پچاس فیصد کی ممبر بٹے زمیندار ہیں۔دوسرے تین کو میں ذاتی طور پر نہیں بھانتا ممکن ہے ان میں سے بھی کوئی بڑا زمیندار ہو۔اس کے مقابل پر مسلم لیگ کے 9 مبروں میں سے صرف چار بڑے زمیندار ہیں یعنی نواب صاحب ممدوٹ ، نواب صاحب لغاری ، مسٹر ممتانه دولتانہ اور مسٹر احمد یار دولتانہ۔دو اور میں جو میرے علم میں بڑے زمیندار نہیں۔مگر شاید انہیں بڑے زمینداروں میں شامل کیا جا سکتا ہو