تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 317
اُونچا کر دیا ہے۔کیا ہم اس سطح پر کھڑے ہو کر مسلح اور محبت کی ایک دائمی بنیاد نہیں قائم کر سکتے۔کیا ہم کچھ دیہ کے لئے جذباتی نعروں کی دُنیا سے الگ ہو کر حقیقت کی دُنیا میں قدم نہیں رکھ سکتے تا ہماری دنیا بھی درست ہو جائے اور دوسروں کی دنیا بھی درست ہو جائے۔یکن مسلمانوں سے یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ یہ وقت اتحاد کا ہے۔جس طرح بھی ہو اپنے اختلافات کو میٹا کر مسلمانوں کی اکثریت کی تائید کریں اور اکثریت اپنے لیڈر کا ساتھ دے اس وقت تک کہ یہ معلوم ہو کہ اب کوئی صورت سمجھوتہ کی باقی نہیں رہی اور اب آزادانہ رائے دینے کا وقت آگیا ہے۔مگر اس معاملہ میں جلدی نہ کی بجائے تا کامیابی کے قریب پہنچ کرناکامی کی صورت نہ پیدا ہو جائے۔میں ہندو بھائیوں سے اور خصوصاً کانگریس والوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ اگر کانگریس کے لئے مسٹر گاندھی نے اور کچھ بھی نہ کیا ہو تو بھی انہوں نے اس پر یہ احسان ضرور کیا ہے کہ اُسے اس اصل کی طرف ضرور توجہ دلائی ہے کہ ہمارے فصیلوں کی بنیاد اخلاق پر ہونی چاہیئے تفصیل میں مجھے خواہ اُن سے اختلاف ہو مگر اصول میں مجھے ان سے اختلاف نہیں۔کیونکہ میرے آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اصل کو جاری کیا ہے۔آپ لوگوں کو غور کرنا چاہئیے کہ ایک طرف تو آپ لوگ عدم تشدد کے قائل ہیں۔دوسری طرف مسلمانوں کے مقابل پر اپنے مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں بعض لیڈر دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔میں نے آج ہی ایک کانگریسی لیڈر کا اعلان پڑھا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ کوئی اسے اچھا سمجھے یا ئیا ، اس کے نتیجہ میں ملک میں شدید فساد پیدا ہو گا “ گر ہو کوئی بھی ملک کے موجودہ بعذ بات کو بھانتا ہے اس بات کو معلوم کر سکتا ہے کہ کوئی طاقت اس (فساد) کو روک نہیں سکتی اور ممکن ہے کہ یہ (فساد ) ایک ایسی شکل اختیار کرلے جیسے ہم میں سے کوئی بھی روک نہ سکے" اس لیڈر نے اس کا بھی ذکر کیا ہے کہ مسٹر جناح نے بھی خون خرابہ کی دھمکی دی ہے۔یہ درست ہے۔مگر مسٹر جناح نے غلطی کی یا درست کام کیا ، وہ عدم تشدد کے قائل نہیں۔ان پر یہ الزام نہیں لگ سکتا کہ وہ کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں۔مگر کانگرس جو عدم تشدد کی قائل ہے اگر اس کا ایک لیڈر ایسی بات کرتا ہے تو وہ یقینا دو باتوں میں سے ایک کو ثابت کرتا ہے۔یا تو اس امرکو کہ کانگریس کی عدم تشدد کی پالیسی صرفت