تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 316
۳۰۵ چاہیئے۔یہ بھی دیکھنا چاہیئے کہ ڈیمو کریسی کا مفہوم کسی قوم میں کیا ہے۔اس وقت روس مغربی حکومتوں کے حالات بار بار یہ اعلان کر رہا ہے کہ مغربی ممالک کے ری ایکشنری لوگ ہمارے مغلات یونان اور ایران اور چین کی تائید کے نام سے غلط فضا پیدا کر رہے ہیں لیکن کیا صرف ری ایکشتری کے لفظ کے استعمال کی وجہ سے انکاری اور امریکہ کے لوگ اپنی منصفانہ پالیسی چھوڑ دیں گے۔اگر نہیں تو صرف ڈیمو کریسی کے لفظ کے استعمال سے بھی اُن کی تسلی نہیں ہو جانی چاہیئے۔میں مسلمانوں کے نمائندوں کو یہ مشورہ دیتا ہوں کہ ہندوستان ہمارا بھی اسی طرح ہے جس طرح ہندو دیں کا ہمیں بعض زیادتی کرنے والوں کی وجہ سے اپنے ملک کو کمزور کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیئے۔اس ملک کی عظمت کے قیام میں ہمارا بہت کچھ حصہ ہے۔ہندوستان کی خدمت ہندوؤں نے تو انگریزی زمانہ میں انگریزوں کی مدد سے کی ہے۔لیکن ہم نے اس ملک کی ترقی کے لئے آٹھ سو سال تک کوشش کی ہے۔پشاور سے لے کر منی پور تک اور ہمالیہ سے لے کو مدد اس تک ان محبانِ وطن کی لاشیں ملتی ہیں جنہوں نے اس ملک کی ترقی کے لئے اپنی عمریں خراج کر دی تھیں۔ہر علاقہ میں اسلامی آثار پائے جاتے ہیں۔کیا ہم ان سب کو خیر باد کہہ دیں گے کیا ان کے باوجود ہم ہندوستان کو سہندوؤں کا کہہ سکتے ہیں۔یقیناً ہندوستان ہندوؤں سے ہمارا زیادہ ہے قدیم آریہ ورت کے نشانوں سے بہت زیادہ اسلامی آثار اس ملک میں ملتے ہیں۔اس ملک کے مالیہ کا نظام، اس ملک کا پنچائتی نظام ، اس ملک کے ذرائع آمد و رفت سب ہی تو اسلامی حکومتوں کے آثار میں سے ہیں۔پھر ہم اُسے غیر کیونکر کہ سکتے ہیں۔کیا سپین میں سے نکل جانے کی وجہ سے ہم اُسے بھول گئے ہیں ہم یقیناً اُسے نہیں بھوٹے ہم یقیناً ایک دفعہ پھر سپین کو لیں گے۔اسی طرح ہم ہندوستان کو نہیں چھوڑ سکتے۔یہ ملک ہمارا مہندوؤں سے زیادہ ہے۔ہماری شستی اور غفلت سے عارضی طور پر یہ ملک ہمارے ہاتھ سے گیا ہے۔ہماری تلواریں جس مقام پر جا کر کند ہوگئیں۔وہاں سے ہماری زبانوں کا حملہ شروع ہوگا۔اور اسلام کے خوبصورت اصول کو پیش کر کے ہم اپنے ہندو بھائیوں کو خود اپنا جز د بنا ئیں گے۔مگر اس کے لئے ہمیں راستہ کو بھگا لکھنا چاہئے۔ہمیں ہرگز وہ باتیں قبول نہیں کرنی چاہئیں جن میں اسلام اور مسلمانوں کی موت ہو۔مگر ہمیں وہ طریق بھی اختیار نہیں کرنا چاہیئے جس سے ہندوستان میں اسلام کی حیات کا دروازہ بند ہو جائے۔میرا یقین ہے کہ ہم ایک ایسا منصفانہ طریق اختیار کر سکتے ہیں۔صرف ہمیں اپنے جذبات کو قابو میں رکھنا چاہئیے۔اسلام نے انصاف اور اخلاق پر سیاسیات کی بنیاد رکھ کر سیاست کی سطح کو بہت