تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 318
اس لئے تھی کہ جب وہ بھاری کی گئی کانگریس کمزور تھی۔اس لئے اس پالیسی کے اعلان کے ذریعہ دنیا پر یہ اثر ڈالنا مقصود تھا کہ ہم تو عدم تشدد کرنے والے ہیں۔ہماری گرفتاریاں کر کے برطانیہ ظلم کر رہا ہے یا ہندوستانی گورنمنٹ کی آنکھوں میں سخاک ڈالنا مقصود تھا کہ ہم تو عدم تشدد کے بڑے حامی ہیں۔ہمیں اپنا کام کرتے دیں۔ہم آپ کی حکومت کے لئے مشکلات پیدا نہیں کرتے یا پھر اس اعلان کے یہ معنے ہیں کہ پبلک پر اشمر کا دعوی کرنے میں کانگریس حقیقت کے خلاف جاتی ہے کیونکہ ہر قوم میں سے کچھ لوگ اپنے لیڈروں کے خلاف ضرور بھا سکتے ہیں لیکن قوم کا اتنا حصہ لیڈروں کے خلاف نہیں جا سکتا جو ملک کے حالات کو قابو سے باہر گردے۔یہ اسی وقت ہوتا ہے جبکہ لیڈر لیڈ ر ہی نہ ہو اور اپنے اثر اور قبضہ کا جھوٹا دعوی کرتا ہو کانگریس کے لیڈروں کو اس موقعہ پر بہت ہوشیاری سے کام کرنا چاہیے ورنہ انہیں یا د رہے کہ سیاسی حالات یکساں نہیں رہتے۔اس قسم کے بیج کبھی نہایت تلخ پھل بھی پیدا کر دیا کرتے ہیں۔کیونکہ خواہ وہ مانیں یا نہ مانیں اس دنیا کا پیدا کرنے والا ایک خدا ہے اور وہ تعداد میں زیادہ ، مال میں زیادہ حکومت میں طاقتور قوم کو تھوڑی ہے اور کمزور لوگوں پر فلم نہیں کرنے دے گا۔اسلام ہر حالت میں زندہ رہے گا خواہ مسلمانوں کی غلطیوں کی وجہ سے عارضی طور پر تکلیف اٹھا لے۔ایک اور بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے جیسا کہ اوپر لکھ چکا ہوں۔میں اس بات کے حق میں ہوں کہ ہو سکے تو ا ہی سمجھوتے سے ہم لوگ اسی طرح اکٹھے رہیں جس طرح کئی سو سال سے اکٹھے چلے آتے ہیں لیکن فرض کر و مسلمان کلی طور پر باقی ہندوستان سے انقطاع کا فیصلہ کریں اور برطانیہ انہیں مجبور کر کے باقی ہندوستان سے ملا دے اور جیسا کہ مسٹر جناح نے کہا ہے مسلمان بزور اس فیصلہ کا مقابلہ کریں تو یقیناً وہ قانونا باقی نہیں کہلا سکتے۔کیونکہ یہ ایک نیا انتظام ہوگا اورنئی گورنمنٹ سابق گورنمنٹ کو کوئی حق نہیں کہ وہ سلمانو کو جو اس ملک کے اصل حاکم تھے۔دوسروں کے ماتحت ان کی مرضی کے خلاف کو دے۔اس حکومتی رد و بدل کے وقت ہر حصہ ملک کو نیا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے اور اپنے حق کو بزور لینے کا فیصلہ کرتے وقت انٹر نیشنل قانون کے مطابق ہرگز باغی نہیں کہلا سکتے۔مگر کیا ہندوؤں کو بھی قانون کا تحفظ حاصل ہے۔وہ کب اس مشکل میں مسلم صوبوں کے حاکم ہوئے تھے کہ انہیں دستور قدیمیہ کو قائم رکھنے کا قانونی حق حاصل ہو حکومتوں کے بدلنے پر ٹیٹ کا کوئی سوال ہی نہیں رہتا۔پس مسلمان خدا نخواستہ اگر ایسا کرنے پر مجبور ہوں تو قانونی لحاظ سے وہ بائنہ کام کریں گے۔ہندو اگر چھیڑا ان کو اپنے ماتحت لانا چاہیں تو قانونی لحاظ سے وہ ظالم ہوں گے۔اگر