تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 14 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 14

ہے اس لئے حضور تشریف نہیں لا سکتے۔گو کہ اس سے ایک گونہ افسوس ہوا مگر وہ کلمات جو مولانا موصوف نے نیا بتا فرمائے اُن سے روح تازہ ہو گئی اور خداوند تعالیٰ کے فضل اور حضور کی دعاؤں کے بھروسہ پر کارروائی شروع کی گئی۔جلسہ نہایت کامیابی سے تمام ہوا۔اور کالج کی رسم افتتاج ہو گئی۔اطلاعاً گذارش ہے۔خدا وند تعالے حضور کو صحت عطا فرمائے بحضور نے دعا فرمائی ہوگی اب بھی استدعائے دُعا ہے۔راقم محمد علی تھاں " حضرت مسیح موعود کی طرب جواب حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے اس در ضخامت کے جواب میں اپنے قلم سے تحریر فرمایا کہ قسم الله الرحمن الرحیم نحمده و نصلی علی رسولہ الکریم مجبھی عزیزی اتویم نواب صاحب سلمہ اللہ تعالے السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبر کاتہ۔رات سے مجھ کو دل کے مقام پر درد ہوتی تھی اس لئے حاضر نہیں ہو سکا۔لیکن میں نے اسی حالت میں بیت الدعاء میں نماز میں اس کالج کے لئے بہت دُعا کی۔غالباً آپ کا وہ وقت اور میرے دعاؤں کا وقت ایک ہی ہوگا۔خدا تعالیٰ قبول فرما دے۔آمین ثم آمین۔والسلام ٹاکستان مرزا غلام کو محمد جعفی عنہ d'" الاسلام کالج کے بتدائی کوالک تعلیم الاسلام کا اجارہ داری این یار کا پہلا کالی تھا جہاں دنیوی اور رسمی علوم مروجہ کے ساتھ دینیات کی تعلیم کا معقول انتظام تھا اور اس کی خاص نگرانی کی جاتی تھی۔اسی طرح کالج کے طلبہ کی اخلاقی اور مذاہبی ترقی کے لئے مقدور بھر بجد وجہد کی جاتی تھی۔اس کالج کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ اس کے طلبہ امام الزمان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پاک اور خدا نما مجلس سے مستفیض ہوتے۔بزرگ صحابہ کی زیر تربیت اپنے اوقات گزارتے اور مرکز احمدیت کی برکتوں سے حصہ وافر لیتے تھے۔تھے کالج کے ڈائریکٹر حضرت نواب محمد علیخاں صاحب ، پرنسپل حضرت مولوی شیر علی صاحب نے اور 。 ئے لکم نی ۲۴ یون نشانه صفحه ۱۰ تا ۱۳ ۰ کے رسالہ " تعلیم الاسلام قادیان جلد اول شماره ۶ صفحه ۲۳۲ به