تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 15 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 15

۱۵ سپرنٹنڈنٹ حضرت مفتی محمد صادق صاحب بھیروی تھے۔کالج کے اولین اساتذہ چار تھے :- حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب بھیروی رضا ( دینیات) - حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی رضا ( عربی ) - حضرت مولوی شیر علی صاحب بی۔اے رض (انگریزی) ہا۔جناب مولوی محمد علی صاحب بی۔اے۔ایل ایل بی (ریاضی) کالج کے لازمی نصاب میں دینیات ، عربی ، انگریزی اور ریاضی کے علاوہ فارسی، فلاسفی اور تاریخ کے مضمون بھی شامل تھے جو حضرت مفتی محمد صادق صاحب اور بعض دوسرے بزرگ پڑھاتے تھے میلے جماعت احمدید ان دنوں بالکل ابتدائی مراحل میں سے گزر رہی تھی۔اس طلبہ کالج کے اخراجات دور میں مدرسہ تعلیم الاسلام کے اساتذہ کی تنخواہیں بھی بمشکل پوری ہو سکتی پیدہ مسئلہ تھیں۔اب جو مدرسہ کے ساتھ کالج کا اضافہ ہوا تو اس کے ارباب حل و عقد کا پیچیدہ کو کالج کے طلبہ کے اخراجات کی فکر بھی دامنگیر ہو گئی بچنانچہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے ہر شہر کی احمدی جماعتوں کو باہم مل جل کو مدرسہ اور کالج کے طلبہ کے لئے تین یا پانچ روپے کے " وظائف مساکین" یا مقرر کر لینے کی اپیل کی اور اس تعلق میں آپ نے تین بزرگوں کی فیاضانہ امداد کا تذکرہ خاص بھی کیا چنانچہ فرمایا۔اس میگہ مجھے تین بزرگوں کا شکریہ کے ساتھ ذکر کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ایک تو استاذی المعظم مولانا مولوی نورالدین صاحب ہو کئی طلباء کو وقتاً فوقتاً ماہوار کی اور ایک مشت مدد دیا کرتے ہیں۔دوم مخدومی نواب محمد علیخاں صاحب ہو اپنی جیب خاص سے مدرسہ کے چار طلباء کو ماہواری معقول وظیفہ دیتے ہیں اور میرے مکرم و مخدوم نواب فتح نواز جنگ مولوی مهدی حسن صاحب بیرسٹر ایٹ اور لکھنو ا نہوں نے کالج کے واسطے ایک مستقل وظیفہ مبلغ کے ماہوار کا مقرر کر دیا ہے۔جب العم الله حلالا لا ة اختيار الحكم " قادیان سر فروری ستاره صفحه را کالم ۱ به 4 • ار مئی ۱۹۳ صفحه کم کالم او سے حضرت مولوی مصد و بین صاحب بی۔اے (سابق مبلغ امریکہ) محال صدر صدر انجین احمدیہ فرماتے ہیں : مطالباً در توی خانه والا کره کلاس روم تھا۔مگر اس کے علاوہ پڑنے صحن مدرسہ کا مشرقی کمرہ بھی استعمال ہوتا سکا۔درزی شانہ کا اوپر والا کمرہ بھی بعض دفعہ لیکچروں اور بعض دفعہ کالج کے بورڈروں کی رہائش کے لئے استعمال ہوتارہی ہے، واصحاب احمد " جلد دوم صفحه ۱۸۲ مؤلفہ ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اسے طبع اولا : البدر اگست الله صفحه ۲۳۱ کا کم ۲ :