تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 13 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 13

۱۳ خاطِئِینَ۔اس کا جواب یوسف نے دیا۔لَا تَشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرَ اللهُ لَكُم یہ سب کچھ اللہ پر یقین کا نتیجہ تھا۔تم بھی اللہ پر کامل یقین کرو اور ان دعاؤں کے ذریعے ہو کہ دنیا کی مخالفت میں سپر ہیں فضل چاہو۔کتاب اللہ کو دستور العمل بناؤ تا کہ تم کو عزت حاصل ہو باتوں سے نہیں بلکہ کاموں سے اپنے آپ کو اس کتاب کے تابع ثابت کرو۔ہنسی تمسخر ، ٹھٹھا اندا، گالی یہ سب اس کتاب کی تعلیم کے بر خلاف ہے ، جھوٹ سے ، لعنت سے تکلیف اور ایذا دینے سے ممانعت اور لغو سے بچنا اس کتاب کا ارشاد ہے۔صوم اور صلوٰۃ اور ذکر شغل الہی کی پابندی اس کا اصول ہے " سے حضرت مولوی نورالدین صاحب رضہ اس اثر انگیز تقریر کے بعد کرسی صدارت پر تشریف فرما ہوئے اور پھر مولوی ابو یوسف مبارک علی صاحب سیالکوٹی اور مولوی عبداللہ صاحب (کشمیری) نے افتتاح کا لج کی نسبت اپنی اپنی فارسی تنظمیں پڑھیں۔ازاں بعد حضرت نواب محمد علیخاں صاحبینا نے کھڑے ہو کہ فرمایا کہ خدا کے تقتل واحسان سے افتتاح کالج کی رسم ادا ہو چکی۔اس کے بعد دعا کی گئی اور بجلسہ بر خاست ہوا۔حضرت نواب محمد علیخاں صاحب بے کیلوں سے تقریب انتاج بخیر وخوبی ختم ہوگئی تو ویسے نواب محمد علیخان صاحب نے حضرت مسیح موعود حضرت مسیح موعود کی خدمت میں خواست تھا عملیات ام کے حضورصہ والی مریضہ لکھا۔ور سیدی و مولائی طبیب روحانی سلمکم اللہ تعالیٰ السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبر کاتہ مولانا مولوی عبدالکریم صاحب کی زبانی معلوم ہوا کہ حضور کی طبیعت نصیب اعداء علیل اے سورہ یوسف رکوع ۱۰- حکم میں یہ حصہ آیت سہو ا غلط چھپ گیا تھا (مرتب) :- کے " المحکم ۴۴ میحون ۱۹۰۳ و صفحه ۱۱-۱۲+ سے یہ دونوں نظمین: الحكم " سر جون سر صفحہ پر شائع شدہ ہیں۔مالیر کوٹلہ کے ممتانہ احمدی شاعر محمد نواب قلی صاحب ثاقب یعنی اللہ عنہ نے افتتاح کالج کا قطعہ تاریخ لکھا کہ سه بسال افتتاح کالج ما ندا آمده به ثاقب فیض فرقان البعد در جولائی ۱۹ صفحہ ۱۹۹ کالم ۱۲ ه الحكم ۲۲ جون سوار صفحه ۱۲ کالم ۰۳