تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 12 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 12

۱۲ یہ مثال دینے کے بعد حضرت مولوی صاحب نے فرمایا :- یہ حقیقت ہے اس سایہ کی جیسے میں چاہتا ہوں تم پر ہو۔علوم کی تحصیل آسان ہے مگر غند کے فضل کے نیچے اُسے تحصیل کرنا یہ مشکل ہے۔کالج کی اصل فرض یہی ہے کہ دینی اور دنیوی تربیت ہو۔مگر اول فصل کا سایہ ہو پھر کتاب پھر دستور العمل ہو۔اس کے بعد دیکھو کہ کیا کامیابی ہوتی ہے۔فضل الہی کیلئے پہلی بشارت پیارے عبد الکریم نے دی ہے۔وہ کیا ہے حضرت صاحب کی دعائیں ہیں۔میں ان دعاؤں کو کیا سمجھتا ہوں۔یہ بہت بڑی بات ہے اور یقینا تمہارے ادراک سے بالا تمہ ہوگی مگر میں کچھ بتلاتا ہوں۔مخالفوں سے انسان نا کامیاب ہوتا ہے۔گھبراتا ہے۔ایک لڑکا ماسٹر کی مخالفت کرے تو اُسے مدرسہ چھوڑنا پڑتا ہے۔جس قدر مہتمم مدرسہ کے ہیں اگر وہ سب مخالفت میں آدیں تو زندگی بسر کرنی مشکل ہو۔اگر چہ افسر بھی لڑکوں کے محتاج ہیں مگر ایک ذرہ سے نقطہ سے اُسے بورڈنگ میں رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔اب اس پر اندازہ کرو۔کہ ایک کی مخالفت انسان کو کیسے مشکلات میں ڈالتی ہے لیکن ہمارے امام کی ساری برادر کی مخالف ہے۔رات دن یہی تاک ہے کہ اسے دُکھ پہنچے پھر گاؤں والے مخالف۔۔۔۔یہ حال تو گاؤں کی مخالفت کا ہے۔پھر سب مولوی مخالفت ، گدی نشین مخالف ، سستی مخالف ، آریہ مخالف ، مشنری مخالف ، دہریوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا مگر وہ بھی مخالف اور نہایت خطرناک دشمن اس سلسلہ کے ہیں۔ان تمام مشکلات کے مقابلہ میں دیکھو وہ (حضرت مرزا صاحب) کیسے کا میاب ہے۔یہاں ہمارا رہنا تمہارا رہنا سب اُسی کے نظارہ ہیں کہ با وجود اس قدر مخالفت کے پھر پروانه وار اس پر گرتے ہیں۔اس کا باعث یہی ہے کہ وہ کتاب اللہ کا سچا ھاتی ہے۔اور ارات دن دعاؤں میں لگا ہوا ہے۔اس لڑکے سے بڑھ کر کوئی خوش قسمت نہیں جس کے لئے یہ دعائیں ہوں۔مگر ان باتوں کو وہی سمجھتا ہے جس کی آنکھ بنیا اور کان شنوا ہوں۔لتننهم با فرهم هذا كى صدا یوسف کے کان میں پڑی۔اس سے سوچو کہ خدا کا فضل ساتھ ہوتا ہے تو کوئی دشمن ایذا نہیں پہنچا سکتا۔کس طرح کے بھاہ جلال اور بحالی یوسف کو ملی۔اور سب سے عجیب بات یہ ہے کہ اُن بھائیوں کو آخر کہنا پڑا۔اِنَّا حُنَا