تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 11
11 یونیورسٹی ہوگا، اور اس احمدی جماعت کے لئے ایک بڑا مفید دارالعلوم ثابت ہو گا۔یہ کالج خدا کے فضل سے چلے گا اور خدا کے صادق بندے میسج موعود کی دعاؤں سے نشو و نما پائے گا " سے اس تقریر کے بعد حضرت مولوی نورالدین صاحب نے ایک نہایت ایمان افروز صدارتی خطاب کیا میں میں ارشاد فرمایا کہ تمام ترقیوں عزت اور تحقیقی خوشی کی جڑ یہ کتاب ہے اور اسی کے ذریعہ سے ہم اس (کوہ ارض پر حکمرانی کرتے ہیں اور اسی کے ذریعہ سے فضل الہی کا سایہ ہم پر پڑ سکتا ہے۔بڑے بڑے لائق ، چالاک اور پھرتی سے بات کرنے والوں کے ساتھ نا چیز کی حالت میں میرا مقابلہ ہوا ہے مگر اس قرآن کے ہتیار سے جب میں نے ان سے بات کی ہے تو اُن کے چہروں پر ہوائیاں اُڑنے لگ گئیں۔۔۔۔میں تم کو ایک بچہ کا قصہ سناتا ہوں کیونکہ تم بھی بچتے ہو۔نگہ وہ عمر میں تم سب سے چھوٹا تھا۔اس کا نام یوسف ہے۔جس وقت بھائیوں نے اُسے باپے مانگا اور چاہا کہ اسے باپ سے الگ کر دیں اور جنگل میں بجا کہ ایک کوئیں میں اُتار دیا۔۔۔نہ اس وقت کوئی یار نہ آشنا نہ ماں اور نہ باپ، اگر ہوتے بھی تو اُسے وہ بات نہ بتلا سکتے ہو خدا نے بتائی اور ان کو کیا علم تھا کہ اس کا انجام کیا ہو گا مگر بعدا کا سایہ اس پر تھا۔خدا نے اسے بتلایا۔لَتُنَيَّنَهُم بِاوِرِهِمْ هذَا وَهُمْ لا يَشعرون کہ اے یوسف ! دیکھ تجھے باپ سے الگ کیا، تیری زمین سے تجھے الگ کیا اور اندھیرے کو نہیں میں ڈالا مگر میں تیرے ساتھ ہوں گا اور اس علیحدگی کی تعبیر کو تو بھائیوں کے سامنے بیان کرے گا اور ان کو اس بات کا شعور نہیں ہے۔دیکھ لو۔یہ باتیں باپ نہیں کر سکتا نہ وعدہ دے سکتا ہے کہ یوں ہوگا یا جاہ و جلال کے وقت تک یہ تن درستی بھی ہوگی۔ایک باپ بچے سے پیار تو کر سکتا ہے مگر وہ اس کے آئندہ لیات کا کیا اندازہ لگا سکتا ہے۔ان باتوں کو جمع کر کے دیکھو۔اگر کوئی انسان تسلی دیتا تو بچہ کو پیار کرتا گلے میں ہاتھ ڈالنا اور اُسے کہتا کہ ہم چیچی دیدیں گے۔مگر خدا کی ذات کیا رحیم ہے وہ فرماتا ہے لتنبتهم بأخرهم هذا وه عروج دیویں گے کہ تو ان آسفوں کو بتلا دے گا " البدر هارجون ۳ ۱۹ارد صفحه ۱۵۴ - ۱۵۵ * •