تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 271
۲۶۵ لیکن کام عوام الناس کیا کرتے ہیں۔پہلہ نے انگلستان سے لڑائی کی اور بیشک بڑی جرات اور بہادری دکھلائی۔مگر لڑا ہٹلر نہیں بلکہ جرمن قوم بڑی سٹائن نے بیشک ایک اعلیٰ مہارت جرنیل کی دکھائی اور لوگ سٹائن کی تعریف کرتے ہیں۔لیکن سٹائن سٹائن نہیں بن سکتا تھا جب تک روس کا ہر آدمی بہادر اور دلیر نہ ہوتا۔انگلستان میں مسٹر پر پھیل نے بیشک بڑا کام کیا ہے لیکن سر پر چلا کیا کام کر سکتے تھے اگر ہر انگریز اپنے اندر وہ اخلاق نہ رکھتا ہجو عام طور پر انگریزوں میں پائے جاتے ہیں۔اسی طرح مسٹر روزویلٹ کو بھی بڑی عزت اور شہرت حاصل ہوئی مگر ان کو عزت اور شہرت اسی وجہ سے حاصل ہوئی کہ امریکین لوگوں نے قربانی کی ایک بے نظیر روح دکھائی۔ہندوستان (میں) بھی بے شک گاندھی جی کو اُونچا کرنے کے لئے لوگ کتابیں لکھتے اور تقریریں کرتے ہیں لیکن کوئی اکیلا گاندھی یا دو در تین گاندھی یا بیس در این گاندھی یا ہزار گاندھی بھی ہندوستان کو آزاد نہیں کرا سکتا جب تک عوام الناس میں آزادی کی روح پیدا نہ ہو۔پس صرف گاندھی اور نہرو کو دیکھ کہ یہ خیال کر لینا کہ ہندوستان ترقی کر رہا ہے محض حماقت ہے چند بڑے بڑے لیڈروں کی وجہ سے یہ سمجھ لینا کہ ہندوستانی میں آزادی کی روح پیدا ہو گئی ہے ویسی ہی جہالت کی بات ہے جیسے بھی کبوتر پر حملہ کرتی ہے تو وہ اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ میں امن میں آگیا ہوں جب تک ہندوستان کے عوام الناس کو ہم آزادی کی روح سے آشنا نہیں کر لیتے جب تک ہند وستلانا کے مزدوروں کو ہم آزادی کی روح سے آشنا نہیں کر لیتے ، جب تک ہند دستان کے زمینداروں کو ہم آزادی کی رُوح سے آشنا نہیں کر لیتے اور جب تک ہم ان میں بیداری اور شرکت پیدا نہیں کر لیتے اس وقت تک نہ ہندوستان آزاد ہو سکتا ہے نہ سہندوستان حقیقی معنوں میں کوئی کام کر سکتا ہے۔اور یہ آزادی پیدا نہیں ہو سکتی جب تک موجودہ دور بدل نہ جائے۔جب تک ہندوستانیوں کے ذہن سے یہ انکل نہ بھائے کہ ہم غلام ہیں۔جبس دن ہندوستانیوں کے ذہن سے غلامی کا احساس نکل بھائے گا اس دن ان میں تعلیم بھی آ بجائے گی ، ان میں ہجرت اور دلیری بھی پیدا ہو جائے گی اور ان میں قربانی اور ایثار کی روح بھی رونما ہو جائے گی۔جب انسان یہ سمجھتا ہے کہ میں کسی کا غلام ہوں تو وہ کہتا