تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 272 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 272

P74 ہے مجھے کیا زمین اُلٹی ہو یا سیدھی ، آسمان گرے یا قائم رہے ، فائدہ تو مالک کو ہے۔میں کیوں تکلیف اُٹھاؤں۔میں سمجھتا ہوں وہ لیڈر لیڈر نہیں ہوں گے بلکہ اپنی قوم کے دشمن ہوں گے جو ان حالات کے بدلنے کے امکان پیدا ہونے پر بھی چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے بند کر کے بیٹھ جائیں اور ان معمولی معمولی باتوں میں اس اہم ترین موقع کو ضائع کر دیں۔کہ فلاں کو کانفرنس میں کیوں لیا گیا اور فلاں کو کیوں نہیں لیا گیا۔لوگ تو اپنے جسم کو بچانے کے لئے اپنے اور اپنے بچوں کے اعضاء تک کٹوا دیتے ہیں۔لیکن یہاں یہ سوال پیدا کئے جا رہے ہیں کہ فلاں کو نمائندہ سمجھا جائے اور فلاں کو نہ سمجھا جائے۔فلاں کو شامل کیا جائے اور فلاں کو شامل نہ کیا جائے۔حالانکہ جس شخص کے دل میں حقیقی درد ہوتا ہے وہ ہر قسم کی قربانی کر کے اپنی قیمتی چیز کو بچانے کی کوشش کیا کرتا ہے۔یہاں پھائیں کروڑ انسان غلامی میں مبتلا ہے۔پچالیس کروڑ انسان کی ذہنیت نہایت خطرناک حالت میں بدل چکی ہے۔نسلاً بعد نسل وہ ذلت اور رسوائی کے گڑھے میں گرتے پہلے جاتے ہیں وہ انگریز میں نے ہندوستان پر قبضہ کیا ہوا ہے وہ ہندوستان کو آزادی دینے کا اعلان کر رہا ہے۔لیکن سیاسی لیڈر آپس میں لڑ رہے ہیں کہ تمہارے اتنے نمبر ہونے چاہئیں اور ہم ایک قلیل جماعت ہیں اور ہم ان حالات کو دیکھنے کے ہمارے اتنے با وجود کچھ کر نہیں سکتے۔لیکن ہماری جماعت یہ دعانہ در کر سکتی ہے کہ اے خدا خواہ مسلمان لیڈر ہوں یا ہندو تو ان کی آنکھیں کھول اور انہیں اس بات کی توفیق عطا فرما کہ وہ ہندوستان کے چالیس کروڑ غلاموں کی زنجیریں کاٹنے کے لئے تیار ہو جائیں۔کیونکہ یہ نہ صرف ہمارے لئے مفید ہے بلکہ آئندہ دنیا کے امن کے لئے بھی مفید ہے۔اگر اس موقع پر لڑنا جائتہ ہوتا تو انگریز کو لڑنا چاہیئے تھا۔مگر خدا تعالے کی قدرت ہے وہ وائسرائے جو انگلستان کی طرحت سے ہندوستان پر حکومت کرنے کے لئے آیا ہوا ہے وہ کہتا ہے کہ میں ہندوستان کو آزاد کرتا ہوں۔انگلستان کا صناع جو ہندوستان کو ٹوٹ کر اپنی صنعت کو فروغ دے رہا ہے وہ کہتا ہے کہ میں ہندوستان کو آزاد کرنے کے لئے تیار ہوں۔انگلستان کی وہ ٹوری گورنمنٹ ہو ہندوستان پر ہمیشہ جبری حکومت کے لئے کوشش کرتی پھلی آئی ہے وہ کہتی ہے کہ میں ہندو سے