تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 270 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 270

کے انڈر رکھا بھائے تب بھی وہ آزاد ہوتے ہیں۔غلامی ان کے قریب بھی نہیں آتی۔مگر بیشتر حصہ بنی نوع انسان کا ایسا ہی ہوتا ہے ہو ظا ہری غلامی کے ساتھ دلی نظام بھی بن بجاتا ہے۔ہم ہندوستان میں روزانہ اس قسم کے نظارے دیکھتے ہیں جو اس غلامی کا ثبوت ہوتے ہیں، جو ہندوستانیوں کے قلوب میں پائی جاتی ہے۔ان واقعات کو دیکھنے کے بعد کون شخص ہندوستانیوں کی غلامی سے انکار کر سکتا ہے۔یہاں اگر انگریز کسی کو مارتا بھی چلا جائے تو اس میں جماعت نہیں ہوتی کہ وہ اس کے مقابلہ میں اپنی زبان ہلا سکے۔اب تو پھر بھی لوگوں میں کچھ آزادی کی رُوح پیدا ہو گئی ہے لیکن آج سے چند سال پہلے یہ حال تھا کہ کسی انگریز کے ساتھ لوگ ریل کے ایک کمرہ میں بھی سوار نہیں ہو سکتے تھے۔اگر کسی ڈبہ میں انگریز بیٹھا ہوتا تھا تو بڑے بڑے ہندوستانی افسر وہاں سے مل جاتے تھے کہ صاحب بہادر اندر بیٹھتے ہیں۔خواہ صاحب بہادر اُن کے نوکروں سے بھی اونی ہوں۔ہندوستان کے لوگوں کی یہ حالت جو بیان کی گئی ہے اس میں اعلیٰ اخلاق کے لوگ شامل نہیں۔ان لوگوں کی تو یہ حالت ہوتی ہے کہ خواہ وہ صلیب پر لٹک رہ ہے ہوں یا جھیل مانوں میں بند ہوں تب بھی وہ آزاد ہوتے ہیں کیونکہ اصل آزادی عقیم کی آزادی نہیں، بلکہ دل کی آزادی ہے۔آزاد قوموں کے جرنیل جب لڑائی میں پکڑے جاتے ہیں تو کیا تم سمجھتے ہو وہ غلام بن جاتے ہیں وہ غلام نہیں بلکہ آزاد ہوتے ہیں بیشک انہیں بند جگھوں میں رکھا جاتا ہے۔لیکن بند جگہوں میں رہنے کے باوجود وہ آزاد ہوتے ہیں۔مگر ہندوستان وہ ملک ہے جس کا بیشتر رفتہ بلکہ نانوے فیصد کی حصہ یقیناً فلام ہو چکا ہے۔اس قسم کی حالت کو اگر میا کیا جائے تو اس سے زیاد ہ اپنی قوم کے ساتھ اور کوئی شمنی نہیں ہو سکتی۔میں تو کہتا ہوں ایک دیو کیا اگر وائسرائے کو دس دیو بھی دے دیئے جائیں تب بھی، اس تغیر کی وجہ سے ہندوستان میں جو آزادی کی اردح پیدا ہوگی وہ اس قابل ہے کہ اس کو نوشی سے قبول کیا بھائے جب تک ہندوستانیوں کے ذہن سے یہ نہیں نکل جائے گا ( اور سہندوستانیوں سے مراد جیسا کہ میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں عوام الناس ہیں ند که اعلیٰ طبقہ کے لوگ) کہ وہ انگریزوں کے غلام ہیں اس وقت تک ہندوستان سے کسی بہتری یا کسی بڑے کام کی امید رکھنا بالکل فضول اور عبث ہے۔لینڈ ہونا اور بات ہے