تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 253 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 253

وہ کسی میدان میں اپنی مایوسی اور نا کامی کا احساس اب اس اندیشہ سے بڑھتا جاتا ہے کہ کہیں ان مابعد جنگ انتظامات میں۔جن میں سے بعض پر اس کا نفرنس میں بحث ہوگی ذلیل بے چارگی کی حالت میں نہ جھکیل دیا جائے“ سر ظفر اللہ کی شخصیت ہمارے ملک کی ایک بہت شاندار شخصیت رہی ہے۔جب تک وہ دہلی اور شملہ کے سرکاری خلوت خانوں کی آسائشوں سے مانوس نہ ہوئی تھی موصوف کی ذہنی اور دماغی قابلیت کا لوہا سب مانتے ہیں۔اس قابلیت کے نقوش آج بھی ہماری قومی زندگی میں موجود ہیں۔مگر یہ آواز جو ہم نے آج لندن کے ایک ایوان میں سنی اب تو ایک اجنبی کی آواز معلوم ہوتی ہے۔تاہم حقائق کی قوت اس سے ظاہر ہے۔یعنی یہ حقیقت ظاہر ہے کہ وطن کی اولاد اگر اُس سے بعد کسی دوسری دنیا میں بھی آباد ہو۔تب بھی اس کی زندگی میں ایسے لمحے آتے ہیں کہ وہ اسی ایوان کے فرش پر جس کے اندر اس کی قدرتی صلاحیتیں محفوظ کر لی گئی ہیں ایک کلمہ حق کہ سکتی ہے۔سر ظفر اللہ کی اس آواز میں ایک گرج ہے ، ایک دھما کا ہے جس کو ہم نظر اندازہ نہیں کر سکتے۔لیکن کیا وہ بھی نظر انداز نہ کر سکیں گے۔دولت مشترکہ کے مدبرین ! جن کو سر ظفر اللہ نے مخاطب کیا ؟ انہوں نے فرمایا کہ کیا ہندوستان کی حالت بچین سے بھی بدتر ہے۔کیا ہندوستان کے اندرونی اختلافات چینی کو ٹانگ اور معینی اشتراکیوں کے اختلافات سے بھی زیادہ ہیں ؟ پھر یہ کیا بات ہے کہ آج چین کو چار بڑے اکابر میں شمار کیا جاتا ہے مگر ہند دوستان کا مقام کہیں بھی نہیں ؟ بہت مشکل ہے اس بات کا سمجھنا اور بتانا کہ سرظفر اللہ کی زبان سے یہ سب کچھ کن حالات میں کہا گیا اور آیا یہ کہ ان کا کہا ہوا بنا ڈاؤننگ اسٹریٹ تک بھی پہنچ سکے گا یا نہیں۔لیکن یہ تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے ہندوستان کے اس نام نہاد و قد کی قیادت کا فرض انجام دیا۔اس سے آگے ہم نہیں کہ سکتے کہ پھر بھی وہ کچھ کہیں گے یا نہیں اور ان کے شر کار کار بھی کچھ کہیں گے یا نہیں۔یا یہ ایک آواز یورپ کی بین الاقوامی سیاست کے صحرائے لق و دق میں حضرت ایک ہی دفعہ بلند ہو کر گم ہو جائے گی " سے ن بجواله الفضل " در امان از مارچ ۳۲۲ به بیش صفحه و کالم ۱ تا ۳