تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 252 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 252

1984 واقعہ ہو گا۔اگر برطانوی مدتیروں کے دل میں تبدیلی واقع نہ ہوئی۔آپ نے یہانتک کہہ دیا کہ ہندوستان آزاد ہونا چاہتا ہے خواہ اسے کامن ویلتھ (دول متحدہ) سے باہر ہی کیوں نہ رہنا پڑے ہندوستان دول متحدہ میں بھی شریک ہو سکتا ہے بشرطیکہ وہ اپنی قسمت کا آپ مالک ہو اور باہر سے کوئی دباؤ اس پر نہ پڑے اور دوسری شرط یہ ہے کہ درجہ نو آبادیات میں وہ نسلی امتیاز کا شکار نہ ہو اور اس کا دور بعد بالکل مساوی ہو۔یہ باتیں بالکل صاف ہیں " " ۱۳ حیدر آباد دکن کے روزانہ اخبار پیام" (سوره در ربیع الاول مطابق ۲۲ فروری ۱۹۴۶) اخبان پیام " نے ایک نبی کی آواز" کے عنوان سے لکھا۔ایک " :- بہت عرصہ ہوا کہ سر ظفراللہ خان قومی زندگی سے بیگانہ ہو چکے ہیں۔اُن کی دنیا لال وردیوں والے جھیداروں اور شرح قالینوں والے حکومت کے ایوانوں کی دنیا ہے ، اس لئے حیرت ہوئی۔ایک خوشگوار حیرت که تعلقات دولت مشترکہ کی کانفرنس میں ہندو یہ نام ہند کے بیڈر کی حیثیت سے انہوں نے اپنی تقریر میں درگیری عجیب عجیب باتیں فرما دیں۔کیا وہ کوئی عصبی بہیجان کا لمحہ تھا جب وہ کہر بیٹھے کہ 1+ دولت مشترکہ کے دیردا کیا تم اس عجیب طنز کو محسوس نہیں کرتے کہ ہندوستان کے ۳۰ لاکھ سپاہی میدان جنگ میں دولت مشترکہ کی اقوام کی آزادیوں کو محفوظ کرنے کی جد و جہد کر رہے ہوں اور پھر خود اپنی آزادی کی بھیک مانگتے رہیں ؟ اور پھر یہ کہ کب تک تمہارے خیال میں ہندوستان انتظار کرتا رہے گا ؟ ہندوستان کا قافلہ اب جادہ پیمیا ہے خواہ تم اس کی مدد کر دیا اس کا راستہ دو کو اس کو اب کوئی بھی روک نہیں سکتا ہندوستان آزاد ہو کر رہے گا مگر وہ دولت مشترکہ کے اندر رہے گا اگر تم اس کو اندر رہنے دو گے اور اس کو وہ مرتبہ دو گے جو اس کا حق ہے مگر وہ اس مطلقہ سے باہر بھی چلا جائے گا اگر تم اس کے لئے کوئی دوسرا چارہ کا ر باقی نہ رکھو گے“ اور پھر اپنی سیاسی آزادی کے لئے برطانیہ کی دست نگرمی کرنے سے اب ہندوستان اکتا گیا ہے بریاری کھاله الفضل ۲۴ تبلیغ فروری یہ پیش صفر سالم ما +