تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 254 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 254

۲۴۸ م - روز نامہ " پربھات ۲۰ فروری شالہ نے یہ نوٹ شائع کیا :- اخبار پربھات" "ہندوستان کی طرف سے سر ظفر اللہ بطور نمائندہ اس کا نفرنس میں تشریف لے گئے ہیں۔ان کی پہلی تقریرہ بہت زور دار ہے اور دل خوشکن بھی۔کیونکہ انہوں نے کامن وظیفے کے دوسرے ممبروں کو صاف الفاظ میں بتایا کہ میں پچیس لاکھ سپا ہی مہیا کرنے والا ملک اگر آزادی سے محروم رہا تو جنگ کے بعد بھی دنیا میں امن نہیں ہو سکتا۔ایک ایک ہندوستانی کو نظر اللہ کا منون ہونا چاہیئے کہ انہوں نے انگریزوں کے گھر جا کر میق کی بات کہہ دی نشست ۵- اخبار ویر بھارت " ۲۰۱ فروری یہ اپنے ایک طویل مضمون میں یہ تبصبر لکھا۔اخبار ویر بھارت سر ظفر اللہ نے کامن ویلتھ کا نفرنس میں بجا طور پر یہ سوال کیا کہ تمہیں ہندوستان کے چھپیں لاکھ سپاہی دنیا کو آزاد کرانے کے لئے لڑرہے ہیں کیا اس کا باستور غلام پہنا باعث شرم نہیں ہے کہ اخبار پرتاپ مورخہ ۲۲ فروری ۱۲۵) نے چودھری صاحب کی حرکتہ النار اخبار پرتاپ تقریرکا ذکر درج ذیل الفاظ میں کیا - ہندوستان کے فیڈرل کورٹ کے بیچ سرمہ ظفراللہ ہی گل لندن گئے ہوئے ہیں۔آپ کامن ویلتھ ریشنز کا نفرنس میں ہندوستانی ڈیلی گیشن کے لیڈر ہیں۔لندن میں آپ نے جو تقریریں کی ہیں اُن سے بہندوستان تو کیا ، سادی کامن ویتہ میں تہلکہ مچ گیا ہے۔کوئی امید نہ کر سکتا تھا کہ شہر ظفر اللہ جیسا شخص بھی برطانیہ کی ذدمت میں ایسے الفاظ استعمال کر سکتا ہے۔پسند دن ہوئے آپنے ایک تقریر کی جسے سن کر یو پی کے سابق گورنر سر سیلکم ہیلی جو اس وقت لارڈ میلی آن سرگودھا میں آگ بگولہ ہو گئے اور میٹنگ سے اُٹھ کر چلے گئے۔آپ نے برطانوی حکمرانوں کو دوہ کھری کھری سنائیں کہ سننے والے دنگ رہ گئے۔برطانوی حکومت کے درجنوں تنخوا پر رکیٹوں کے کئے کرائے پر آپ کی ایک تقریر نے پانی پھیر دیا۔عام سوال یہ کیا جارہا ہے کہ یہ کیسے ہوا کہ ایسے ایسے لوگ بھی جو برطانیہ کی بدولت ان مستانہ عہدوں پر پہنچے ہیں آج اس کے غلات ہو رہے ہیں۔جواب صاحت ہے۔برطانوی حکومت ہر ایک شه دسته "الفصل ۲۴ تبلیغ فروری میش صفحه ۶ کالم ۵۳۰۲