تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 222
۲۱۶ " آپ مشہور واعظ تھے اور آپ کی سحر بیانی مسلم تھی۔آپ نے ایک بار راجوری میں وعظ کا سلسلہ شروع کیا۔ہزاروں مسلمان آپ کے مواعظ حسنہ سے متاثر ہوئے۔اور رسوم بد کو ترک کر کے اپنی تنظیم کی طرف متوجہ ہونے لگے۔ایسے دیکھ کر راجوری کے ہندوؤں نے فرقہ دارانہ فساد کروا دیا۔آپ کے علا وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے گئے اور آپ کو اشتہاری مجرم قرار دیا گیا۔اس پر آپ ریاست سے نکل کھڑے ہوتے اور ہجرت کرکے پہلے حیدر آباد پھر سلسلہ میں اڑیسہ تشریف لے گئے اور کیرنگ کو اپنا مرکز بنا کر پورے جوش و خروش سے تبلیغی و تربیتی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا بلاء میں آپ کلکتہ تشریف لے گئے۔کلکتہ میں کوئی مقامی احمدی دوست اس وقت موجودہ نہیں تھا۔آپ کی دو تین ماہ کی مسلسل تبلیغ ہسحر البیانی اور راتوں کی دعاؤں نے یہ اثر دکھایا کہ ابو طاہر محمود احمد صاحب اور مولوی لطف الرحمن صاحب جیسے رو سائے کلکتہ داخل احمدیت ہو گئے۔اور کلکتہ کی جماعت ترقی کے راستہ پر گامزن ہونے لگی۔کلکتہ میں کچھ عرصہ قیام کے بعد حضرت مولوی صاحب دوبارہ کی تنگ آئے اور ریاست نگر یا میں تبلیغ کے لئے پچھلے گئے۔تنگیر یا میں احمدیوں کی برادری اور رشتہ داری تھی مگرہ احمدی کوئی نہیں تھا۔آپ کی قوت جاذبہ نے وہ اثر دکھایا کہ کٹر الی اور نگوریا کی تمام آبادی احمدیت میں داخل ہو گئی اور اس دن سے وہاں ایک بڑی جماعت قائم ہے۔کی رنگ کی جماعت میں تنظیم نہ تھی۔اکثر لوگ احمدی کہلاتے تھے مگو نہ انہوں نے بیعت کی تھی نہ چندہ دیا کرتے تھے۔فقط جمعہ اور عیدین میں شامل ہو جانے سے اپنے آپ کو احمدی خیال کرتے تھے۔حضرت مولوی صاحب مرحوم نے سب کا جائزہ لے کر باقاعدہ سلسلہ بیعت میں داخل کرایا ہے حضرت مولوی صاحب اڑیسہ ہی میں تھے کہ ریاست نے آپ کی بامداد کی ضبطی کا حکم دے دیا۔آپ کے بعض رشتہ داروں نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خدمت میں اطلاع دی بعضوں نے آپ کو ریاست کی عدالت میں حاضر ہونے کا ارشاد فرمایا جس کی آپ نے تعمیل کی اور حضرت امیر المومنین کی کھانی سے حضرت مولوی صاحب کو تمام الزامات سے بری قرار دے دیا گیا۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ میں حضرت صاحب کی دعا کا ایک زندہ معجزہ ہوں کہ حضور کی دعا نے میرے جیسے شخص کو جسے حکومت کشمیر نے اشتہاری مجرم قرار دیا تھا نہ صرف سزا سے بچا لیا بلکہ جملہ الزامات سے خود ہی بالکل بری قرار دے دیا سکے کام شة الفضل و راست هایش صرفه لم ۳ - الفضل ظهور است اروفا استمبر صفح۳ کالم ۳-۰۴