تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 221 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 221

۲۱۵ نهایت فرشته سیرت بزرگ تھے حضرت سیدنا المصلح الموعود سے خصوصاً اور خاندان حضرت مسیح موعود سے بہت محبت تھی۔ان میں جب مسئلہ خلافت پر اختلاف ہوا تو مولوی صدرالدین صاحب اپنے دو تین رفقاء سمیت پٹیالہ گئے۔آپ ان دنوں پٹیالہ شہر کے کو توال تھے۔ابھی مولوی صاحب کچھ کہنے بھی نہ پائے تھے کہ حضرت قریشی صاحب نے فرمایا۔اگر آپ نے خلافت کی مخالفت میں کچھ کہنا ہے تو اس کی اجازت میں آپ کو نہیں دے سکتا۔اس پر مولوی صاحب موصوف برہم ہو کہ پھل دیئے۔میں ملازمت سے ریٹائر ہوئے تو حضرت امیرالمومنین خلیفہ اسیح الثانی نے آپ پہلے سپر انسان آباد کاری جرائم پیشہ چار پائل لگایا۔پھر آباد کاری جرائم پیشہ خانیوال چک (۱۹۱۸/ ۲-۱۱۰ ۱۹۱-۸/ ۱۰-۹ محمود آباد کا سپرنٹنڈنٹ مقرر فرمایا۔یہاں آپ نے چک بسایا۔مدرسہ بنوایا۔مسجد تعمیر کرائی اور لوگوں کو احمدیت سے روشناس کرایا۔چنانچہ چند سال ہی میں کئی لوگ احمدی ہو گئے۔ماه تبلیغ ضروری اش میں سخت بیمار ہو گئے۔اپنے بیٹے قریشی ضیاء الدین احمد صاحب بی ہے ایل ایل بی ایڈووکیٹ کو تار دے کر دہلی سے کال کا بلوا لیا۔بیماری سے ذرا افاقہ ہوا تو فرمانے لگے " میں تو خواہ راستہ میں ہی مر جاؤں مگر حضرت مسیح موعود علیہ لصلوۃ والسلام کے قدموں میں بجا کر لیٹوں گا۔مجھے جس طرح بھی ہو قادیان کے چلو۔اس پر قریشی ضیاء الدین احمد صاحب انہیں بذریعہ گاڑی قادیان لائے بہانا چند روز بعد یک دم معالت نازک ہو گئی اور ہم ر زمان / مارچ ہمیش کو اپنے خالق حقیقی سے جامے اور بہشتی مقبرہ کے قطعہ خاص میں دفن کئے گئے بیلے -۴- حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب المعروف مولوی عبد الرحیم کی متوطن پچک اندوره کشمیر - وفات : اا احسان جون ش ) حضرت مولوی صاحب نے عالم شباب میں احمدیت قبول کی۔آپ ان دنوں قریباً و ماء سے جمع مسجد گلگت میں امام مسجد تھے۔اور بہت سا وقت ماں بہا در غلام محمد صاحب کے یہاں گزارتے تھے۔یہیں سلسلہ کا لٹریچر پڑھا اور قریباً دو سال کے بعد خان بہادر صاحب سے مخفی طور پر تبعیت کا شوط لکھوا دیا۔بیعت کے دو سال بعد آپ گلگت چھوڑ کر راجہ عطا محمد صاحب باڑی پورہ کشمیر کے پاس پہلے گئے اور غالباً انہیں کی کوشش سے آپ کو چک اندورہ میں زمین بھی مل گئی اور آپ دہیں آباد ہو گئے ہلے له الفضل" ہے ہجرت ملی الله مش صفحه ۳ - ۰۵ يكم اتحاد اکتوبر صلاح ۴ کالم ۳-۰۲۴