تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 206
تحریک جدید کے دور اول کی شاندار کامیابی پر خدا تعالے کا شکر ادا کرنے اور حضرت سیدتنا الصلح الموقود کے حضور ہدیہ اخلاص پیش کرنے کے لئے مسجد اقصٰی قادیان میں ۲۳ نبوت / نومبر کو ایک جلسہ منعقد کیا گیا جس کی صدارت حضرت صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد صاحب نے فرمائی ہے بیرونی مجاہدین کو بلوانے اور تحریک تجدید کے دورثانی کا اعلان کرنے کے ساتھ ہی سیدنا الصلح المود نے فیصلہ کیا کہ بیرونی مجاہدین احمدیت کو جلد سے جلد واپس بلانے کا نے مبلغین بھجوانے کا فیصلم انتظام کیا جائے چنانچہ فرمایا۔ر ضروری ہے کہ جو مبلغ بیرونی ممالک میں بائیں اُن کے لئے کافی رقم سفر خرچ کے لئے مہیا کی جائے۔کافی لڑر پھر مہیا کیا جائے اور پھر سب سے ضروری بات یہ ہے کہ ان کی واپسی کا انتظام کیا جائے۔ہر تیسرے سال مبلغ کو واپس بھی بلانا چاہیئے اور پرانے مبلغوں کو بلانے اور نئے بھیجنے کے لئے کافی روپیہ بہتا کرنا ضروری ہے۔ابھی ہم نے تین نوجوانوں کو افریقہ بھیجا ہے۔وہ ریل کے تھرڈ کلاس میں اور باریوں میں سفر کریں گے۔مگر پھر بھی ۱۷ - ۱۸ سور و پید ان کے سفر خرچ کا اندازہ ہے۔اگر ہم یہ اندازہ کریں کہ ہر سال ۳۳ فیصدی مبلغ واپس بلائے جائیں گے اور ۳۳ فیصدی ان کی بیگہ بھیجے جائیں گے اور ہر ایک کے سفر خرچ کا تخمینہ پندرہ سو روپیہ رکھیں تو میر یہی خرچ ایک لاکھ روپیہ سالانہ کا ہوگا اور یہ صرف سفر خرچ ہے۔اور اگر مبلغین کو چار چار سال کے بعد بلائیں تو یہ ترویج پھر بھی ۷۵ ہزار روپیہ ہوگا۔اور کم سے کم اتنے عرصہ کے بعد اُن کو بلانا نہایت ضروری ہے۔تا ان کا اپنا ایمان بھی تازہ ہوتا رہے اور ان کے بیوی بچوں اور خود ان کو بھی آرام ہے۔اب تو یہ حالت ہے کہ حکیم فضل الرحمن صاحب کو باہر گئے ایک لمبا عرصہ گزرچکا ہے اور انہوں نے اپنے بچوں کی شکل بھی نہیں دیکھی جب وہ گئے تو ان کی بیوی معاملہ تھیں۔بعد میں لڑکا پیدا ہوا۔اور ان کے بچے پوچھتے ہیں کہ اماں ہمارے ابا کی شکل کیسی ہے۔اسی طرح مولوی میلال الدین صاحب شمس انگلستان کئے ہوئے ہیں اور صدر اتحمین احمدیہ اس ڈر کے مارتے اُن کو واپس نہیں بلاتی کہ ان کا قائمقام کہاں سے لائیں۔اور کچھ خیال نہیں کرتی کہ ان کے بھی بیوی بچے ہیں ہو اُن کے منتظر ہیں۔اُن کا بچہ کبھی کبھی میرے پاس آتا اور آنکھوں میں آنسو بھر کہ کہتا ہے کہ الفضل " يكم فتح اسم مش صفحه ۶۔"