تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 5
مکتوب میں تحریر فر مایا :- یہ مدرسہ محض دینی اغراض کی وجہ سے ہے اور صبر سے اس میں کام کرنے والے خدا تعالے کی رحمت کے قریب ہوتے جاتے ہیں " مختص ہے کہ مدرسہ کے اساتذہ کو دیکھ کہ گذشتہ صوفیاء اور اہل اللہ کی یاد تازہ ہو جاتی تھی۔یہ بزرگ بیچ بیچ آئندہ نسل کے لئے روشنی کے مینار تھے۔خالص دینی ماحول میں تعلیم الاسلام سکول انیسویں صدی میں اپنی نوعیت کا واحد مدرسہ تھا۔جس کے اساتذہ ہی کو نہیں شاگردوں کو بھی امام الزمان حضرت میسم موجود پرورش پانیوالے شاگرد علیہ الصلوۃ والسلام کی تاثیرات قدسیہ کے طفیل ایک بیمثال روھانی اور اور مذہبی فضا میسر آ گئی تھی اور وہ چھوٹی عمر سے ہی دین محمدی کے رنگ میں رنگین ہوتے جا رہے تھے چنا ہے حضرت مولانا عبد الکریم صاحب نے اس درسگاہ کے پس منظر، اس کی خصوصیت اور اس کے نو نہالوں کی قابل رشک دینی حالت کا نقشہ درج ذیل الفاظ میں کھینچا :- ہم صحیح اور پختہ تجربہ اور پیچھے استقراء سے اس نتیجہ پر پہنچے تھے کہ ایک بھی مدرسہ ایسا نہیں جو قوم کے بچوں کو اس مبارک اسوہ پر نشو و نما دینے کا متکفل ہو جسے خاتم النبین رحمہ للعالمين وعلیہ تصلوۃ والسلام) نے قائم کیا، اور جس کی اتباع کے بغیر خدا تعالیٰ کے رضوان اور خوشنودی کا سر ٹیفکیٹ نہیں مل سکتا۔کل مدر سے اور کالج بلا استثناء مقصود بالذات دُنیا کو رکھتے اور محض دنیا پرست قوموں کے نقش قدم پر چلنے اور چلانے کو قومی ترقی سمجھتے ہیں۔ان مدرسوں کے در و دیوار سے ان کے تربیت یافتوں کی زبانوں اور دلوں سے لگاتار آوازیں آتی اور راستبازوں کے دلوں کو دکھاتی ہیں کہ دنیا سب چیزوں پر مقدم ہے۔کیا ہم نے بھی قادیان میں لڑکوں کو وہی چند کتابیں مذہبی پڑھا دیں یا بیگانہ والہ وعظموں کے روکھے پھینکے جملے ان کے سامنے پیش کئے۔اگر ہماری قدرت کی رسائی اسی حد تک ہوتی تو ہم بھی ویسے ہی میسور کام کرنے والے ہوتے۔لیکن خدا تعالے کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں خاص خصائص سے شرف امتیاز بحث ہین میں روئے زمین کے مسلمانوں میں سے کوئی طبقہ اور مشرب له "ذکر حبیب » صفحه ۱۳۷ (مؤلقہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب ) ناشر یکڈ پو تالیف و اشاعت قادیان و