تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 4
رہا ہے۔اس کی بابت میں نے بہت سوچھا کہ کیا کروں۔آخر یہ تدبیر میرے خیال میں آئی کہ میں اس وقت اپنی جماعت کے مخلصوں کو بڑے زور کے ساتھ اس کی طرف توجہ دلاؤں کہ وہ اگر اس بات پر قادر ہوں کہ پوری توجہ سے اس مدرسہ کے لئے بھی کوئی ماہانہ چندہ مقرر کریں تو چاہیے کہ ہر ایک اُن میں سے ایک مستحکم عہد کے ساتھ کچھ نہ کچھ مقرر کرے میں کے لئے وہ ہر گز تخلف نہ کرے مگر کسی چھوری سے ہو قضاء و قدر سے واقع ہو۔اور جو صاحب ایسا نہ کر سکیں ان کے لئے یا نضرورت یہ تجویز سوچی گئی ہے کہ جو کچھ وہ لنگر خانہ کے لئے بھیجتے ہیں اس کا چہارم حصہ براہ راست مدرسہ کے لئے نواب صاحب موصوف کے نام بھیج دیں۔فنگر بنا نہ میں شامل کر کے ہرگز نہ بھیجیں بلکہ علیحدہ منی آرڈر کیا کر بھیجیں۔اگرچہ لنگر خانہ کا فکر ہر روزہ مجھے کرنا پڑتا ہے اور اس کا غم براہ راست میری طرفت آتا ہے اور میرے اوقات کو مشوش کرتا ہے لیکن یہ غم بھی مجھ سے دیکھا نہیں جاتا۔اس لئے میں لکھتا ہوں کہ اس سلسلہ کے جوانمرد لوگ جین سے کہیں ہر طرح امید رکھتا ہوں کہ وہ میری اس التماس کو ردی کی طرح نہ پھینک دیں اور پوری توجہ سے اس پر کاربند ہوں میں اپنے نفس سے کچھ نہیں کہتا بلکہ وہی کہتا ہوں جو خدا تعالے میرے دل میں ڈالتا ہے۔میں نے خوب سوچا ہے اور بار بار مطالعہ کیا ہے۔میری دانست میں اگر یہ مدرسہ قادیان کا قائم رہ جائے تو بڑی برکات کا موجب ہوگا اور اس کے ذریعہ سے ایک فوج نئے تعلیمیافتوں کی ہماری طرف آسکتی ہے"۔مدرسہ کے قدیم اساتذہ انتہائی بے نفس یکرنگ ، ایثار پیشہ اور بہت بے نفس اور ایثار ہمیشہ اساتذہ مخلص بزرگ تھے جن کی ندا کاری کا یہ عالم تھا کہ وہ محض خدمت دین کی خاطر قادیان جیسی چھوٹی سی بستی میں آگئے تھے اور اپنی مسلمہ قابلیتوں اور اعلیٰ صلاحیتوں کے باوجود قلیل تنخواہ پر بخوشی بسر اوقات کرتے اور حضرت میم خود دمہدی معہود علیہات نام کے قدموں میں رہنے نور اس قومی تربیت گاہ کی خدمت کرنے کو ایک نخر و سعادت سمجھتے تھے چنانچہ حضور علیہ السلام نے ایک تذکرۃ الشہاد تین اردو جواله رساله ریویو آف ریلیجیتر دارد و صفحه ۴۹۴۰ - ۴۶۵ با است و میر و مسیر ت ار اس اشاعت الورد الفن التبليغ رسالت " جلد ۱ صفحه 4 - 46 مرتبہ حضرت میر قاسم علی صاحب ایڈیٹر اخبار فاروق " قار باسن بیست استوایی او نام تایر الدین کا دیدار سوم صفحہ ا ر ے پر درج ہیں ؟ في