تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 6
ہمارا شریک نہیں سب سے بڑی اور قابل قدر تحریک ہو ہم نے معصوم قطرہ اور اثر پذیر بچوں کے آگے پیش کی وہ خدا تعالیٰ کے مقدس مسیح کا مبارک وجود ہے جو اپنے ایمان اور عمل سے ہو ہو وہی اُسوہ اور نمونہ ہے جس کے اتباع کے لئے قرآن کریم آیا۔سوچنے والے سوچیں اور غیرت مند خوب فکر کریں کہ کس قدر خوش نصیب وہ والدین ہیں جن کے بچوں کی آنکھوں کو یہ شرف ملے کہ زندگی کے رنگارنگ اور پیر ابتلا نظارہ گاہ میں وا ہوتے ہی ان کے سامنے وہ مبارک اور فرخندہ چہرہ آجائے جو خدا تعالے کی سچی خلافت اور بے عیب مورت ہے۔ہمارے مدرسہ کے لڑکے خدا کے میسج کو دیکھتے ہیں۔آپ کی تقریروں کو سُنتے ہیں۔آپ کے پاک نمونہ کو مشاہدہ کرتے ہیں۔اسی ایک امر کو اگر ہم بڑی تفصیل سے بیان کرنا چاہیں تو اس جملہ سے اس کا پورا حق ادا ہو جائے گا کہ خدا کے خلیفہ کو دیکھتے ہیں تو سبھی کچھ دیکھتے ہیں۔دوسری بات اور لاشریک خصوصیت یہ ہے کہ ہم ہر روز باقاعدہ عصر کے بعد لڑکوں کو حضرت مولوی نورالدین صاحب کے درس قرآن مجید میں شامل ہونے کی عزت دیتے ہیں یہ بھی ایسی نعمت ہے کہ کوئی ملک اور شہر اس میں ہمارا شریک نہیں۔ان سب باتوں اور نمونہ کا یہ اثر اور نتیجہ ہے کہ مڈل اور انٹرنس کے اکثر لڑ کے دینی کی پابندی اور اس سلسلہ حقہ احمدیہ کی نسبت سمجھی غیرت اور عصبیت رکھتے اور امید و لاتے ہیں کہ وہ دنیا کے لئے نیک نمونہ ہوں۔میری فطرت ایسی بنائی گئی ہے کہ میں بہت جلد کسی شخص کی طرف مائل اور کسی بات کا گرویدہ نہیں ہوتا۔اگر میں صحیح تجربہ اور بصیرت سے لاکوں میں آثار باشد و سعادت محسوس نہ کرتا تو میں قوم کو دھوکہ دینے کا مجرم ہوتا نہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ بعض لڑکوں کی غیرت اور پابندی اور اُن کا عاشقانہ آنکھوں سے حضرت خلیفتہ اللہ کے چہرہ مبارک کو ساری نشست میں دیکھتے رہنا میرے لئے باعث رشک ہوتا ہے۔وہ اپنے کھیلوں اور بچپنے کے دل لگی کے سامانوں سے الگ ہو کہ سب سے پہلے مسجد میں حاضر ہونے کی کوشش کرتے ہیں اس لئے کہ صف اول میں جگہ لے کر خلیفہ اللہ کے بہت قریب بیٹھ سکیں" نے اختبار الحكم " قادیان ، فروری سه صفحه ۵ کالم ۳۲ *