تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 3
تعلیم الاسلام کی بنیاد رکھی اور حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب (عرفانی کبیر، مدیحہ الحکم اس کے پیڈیا سنٹر مقرر کئے گئے۔ابتداء میں یہ مدرسہ صرف پرائمری تک تھا مگر ھ میٹی ۱۸۹۸ء سے مڈل کی جماعتیں بھی کھل گئیں اور فروری 1900 ء میں نویں جماعت اور مارچ 1901 ء میں دسویں جماعت کا اضافہ ہوا۔۱۹۰۲ء ہیں پہلی بار اس کے چار طلبہ انٹر نینس کے امتحان میں شامل ہوئے۔بعد ازاں ۱۹۰۳ء اور ۱۹۰۴ء میں سات سات طلبہ نے امتحان دیا۔۱۹۰۵ء میں شریک امتحان ہونے والوں کی تعداد دس ایک پہنچی پیلے مدرسہ کی پریشان کن مالی حال مدارس تعلیم الاسلام کی اقتصادی صورتحال اس درجہ پریشان کن اور تشویش انگیز تھی کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو بنفس نفیس اس کی طرف کئی دفعہ مخلصین جماعت کو توجہ دلانا پڑی۔چنانچہ حضور نے 14 اکتوبر ۱۹۰۳ء کو ایک اشتہار بعنوان ” ایک ضروری امر اپنی جماعت کی توجہ کے لئے " شائع فرمایا جس میں اپنے قلم مبارک سے حسب ذیل تحریک کی : علاوہ لنگر خانہ اور میگزین کے جو انگریزی اور اُردو میں نکلتا ہے جس کے لئے اکثر دوستوں نے سرگرمی ظاہر کی ہے ایک مدرسہ بھی قادیان میں کھولا گیا ہے۔اس سے یہ فائدہ ہے کہ نو عمر بچے ایک طرف تو تعلیم پاتے ہیں اور دوسری طرف ہمارے سلسلہ کے اصولوں سے واقفیت حاصل کرتے جاتے ہیں اس طرح پر بہت آسانی سے ایک جماعت تیار ہو بھاتی ہے بلکہ بسا اوقات پنی کے ماں باپ بھی اس سلسلہ میں داخل ہو جاتے ہیں۔لیکن ان دنوں میں ہمارا ہے۔مدرسہ بڑی مشکلات میں پڑا ہوا ہے اور باوجودیکہ محبی عزیزی خویم نواب محمد علی ماں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ اپنے پاس سے ہستی روپیہ ماہوار اس مدرسہ کی مدد کرتے ہیں مگر پھر کبھی اُستادوں کی تنخوا ہیں ماہ ادا نہیں ہو سکتیں۔صدہا روپیہ قرضہ سر بہ رہتا ہے۔علاوہ اس کے بعدسہ کے متعلق کئی عمارت میں ضروری ہیں جو اب تک تیار نہیں ہو سکیں۔یہ غم علاوہ در غموں کے میری جان کو لکھا ه اشتهار بعنوان در یک ضروری قرض کی تبلیغ بری امید رضی الاسلام پریس کاویان و مشموله تبلیغ رسالت " " ت " جلد ششم صفحه ۱۵ مرتبہ حضرت میر قاسم علی صاحب ایڈیٹر فاروق " قادیان ، رسالہ تعلیم الاسلام قادیان دارالامان بایت به اکتوبر شاه جلد نمبر 4 صفحه ۲۳۳ تا ۲۳۹ و صفحه ۲۷۷ و تاریخ مدرسه تعلیم الاسلام از حضرت مفتی و محمد صادق صاحب سابق ہیٹ اسٹر تعلیم الاسلام سکول قادیان و بدیر با تیم الاسلام سکول قادیان و مدیر "پدر" و " صادق "۔