تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 2 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 2

تقاضوں کے مد نظر اسلامی نظام تعلیم کے عالمی نقشہ کی تشکیل اور اس کے عملی نفاقہ کا مرحلہ شروع ہو گا تو مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ کی طرح اس کالج کو بھی سنگ میل کی نمایاں حیثیت حاصل ہوگی۔انشاء اللہ العزیز اس مختصر سی تمہید کے بعد ذیل میں رہنے پہلے تعلیم الاسلام کالج کی ابتدائی تاریخ پر اور بعد ازاں ماہ ہجرت میشی سے لے کر ماہ ثبوت / نومبر تک کے اکیس سالہ دور پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔اس سنہری دویہ کو یہ دوہری خصوصیت حاصل ہے کہ اس میں کا بچے کو اپنی علمی زندگی کے ایک طویل عرصہ تک نہ صرف حضرت خلیقہ بیع الثانی المصلح الموجود جیسے اولو العزم قائد کی خصوصی تو جہات کا مرکز بننے کا شرف نصیب ہوا بلکہ اسے خالص خدائی تصرف کے ماتحت ایک ایسے مقدس وجود کی براہ راست نگرانی میں پھلنے پھو لئے اور جلد بجلد ترقی کی منازل طے کرنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی جس کے لئے مشیت خداوی میں آئندہ چل کر خدا کے اس پاک اور آسمانی سلسلہ کی باگ ڈور سنبھالنا اور اسے علم وعمل کی رفعتوں کے بلند مینار تک ہے جانا مقدر تھا۔ہماری مراد حضرت مسیح موعود کے موعود مبارک" اور پیر تھا میں اور سیدنا المصلح الموعود کے لخت جگر حضرت صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد صاحب ایک اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ہے جن کی قبل از خلافت زندگی کے مسلسل اکیس سال اس عظیم الشان ادارہ کی ترقی و بہبود کے لئے وقف رہنے اور خدا کے فضل اور آپ کی بہترین سرپرستی گرانت در رہنمائی ، انتھک اور بے لوث بعد و جہد اور عاجزانہ ڈھاؤ سے تعلیم الاسلام کا لج نہ صرف سیدنا الصلح الموعود کے زمانہ خلافت ہی میں پختہ بنیادوں پر استوار ہو گیا بلکہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک ایسے منفرد اور امتیازی مقام تک پہنچ گیا جو اپنوں کے لئے موجب ازدیاد ایمان اور پر گانوں کے لئے ہمیشہ ہی قابل رشک رہے گاہ فصل اول حضرت ی موجود ومعدی جود کے عہد بہار کا تعلیم اسلام کوئی کالج جیسا کہ تاریخ احمدیت جلد سوم (صفحہ ۳ تا ۹) میں ذکر کیا جا چکا ہے بانٹے سلسلہ احمد پر سیدنا حضرتے مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسلامی روشنی ملک میں پھیلا نے ؟ اور یہ طوفان متالت میں اسلامی ذریت کو غیر مذاہب کے دس دس سے بچانے کے لئے ۳ جنوری ۱۸۹۸ ء کو قادیان میں مدرسہ