تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 174
149 نگ میں رنگین ہو کر زندہ ایمان اور کامل عرفان پیدا کرنے کی کوشش کریں۔اسی سلسلہ میں حضور نے پیش کے آغاز میں ایک درد انگیر خطبہ ارشاد فرمایا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخلص صحابہ میں سے خصوصاً حضرت منشی رستم علی صاحب (آف مدار ضلع جالندھر) کے جذبہ ایثار و فدائیت کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ چوہدری رستم علی صاحب غالباً پہلے سب انسپکڑ تھے۔پھر خدا تعالیٰ نے ان کو انسپکٹر بنا دیا۔سب انسپکڑی کی تنخواہ میں سے وہ ایک معقول رقم ماہوار چندہ کے طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والت سلام کو بھجوایا کرتے تھے۔اس وقت غالباً اُن کی انتی روپے تنخواہ تھی۔پھر خدا تعالیٰ نے اُن کو انسپکٹر بنا دیا۔اور ان کی ایک سواستی روپے تنخواہ ہو گئی جب ان کا خط آیا اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام بیمار تھے۔میں نے خود اُن کا خط پڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام کو سنایا۔انہوں نے خط میں لکھا تھا۔اللہ تعالیٰ نے مجھے عہدہ میں ترقی دے کو تنخواہ میں ایک شور و پیر کی زیادتی عطا فرمائی ہے۔مجھے اپنے گزارہ کے لئے زیادہ روپوں کی ضرورت نہیں۔یں سمجھتا ہوں اللہ تعالیٰ نے میری تنخواہ میں یہ اضافہ محض دین کی خدمت کے لئے کیا ہے اس لئے میں آئندہ علاوہ اس چندہ کے جوئیں پہلے ماہوار بھیجا کرتا ہوں یہ سو روپیہ بھی جو مجھے ترقی کے طور پر ملا ہے ماہوار بھی مختار ہوں گا۔دیکھو اس قسم کے نمونے آجکل کتنے نادر ہیں ؟ مگر اس وقت کثرت سے جماعت میں اس قسم کے نمونے پائے جاتے تھے لیکن میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد ان کو دیکھا کہ اُن کے دل اس بات پر خوش نہیں تھے کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ کافی تھا بلکہ بعد میں جب انہوں نے محسوس کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وجود اس سے بہت زیادہ اہم تھا جتنا انہوں نے سمجھا اور اس سے بہت زیادہ آپ کے وجود پر دنیا کی ترقی کا انحصار تھا جس قدر انہوں نے پہلے خیال کیا تو ان کے دل روتے تھے کہ کاش انہیں یہ بات پہلے معلوم ہوتی اور وہ اس سے بھی زیادہ خدمت کر سکتے۔مگر پھر انہیں یہ موقعہ نصیب نہ ہوا۔اور وقت ان کے ہاتھ سے پہلا گیا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے زمانہ میں کئی لوگ ایسے تھے جنہیں قادیان میں صرف دو تین دفعہ آنے کا موقعہ ملا اور انہوں نے اپنے دل میں یہ سمجھا کہ خدا تعالیٰ نے بڑا فضل کیا کہ ہمارا قادیان سے تعلق