تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 164
109 اور امریکہ میں علم کی ترویج اور اس کے فروغ کے متعلق انسانوں کے وہ عظیم محسن یاد آئے بغیر نہیں رہتے جنہوں نے خدمت کی نیت سے آکسفورڈ، کیمبرج اور ہار ووڈ میں کالج قائم کئے۔خالصتہ ذاتی عزم و ہمت کے بل بوتے پر ربوہ میں ایک ایسی درسگاہ قائم کر دکھانا ایک عظیم کارنام ہے اور پھر اس کی آبیاری کرنا اور پروان چڑھا کر اُسے حسن و خوبی اور مضبوطی داستحکام سے مالا مال کر دکھانا اور بھی زیادہ قابل ستائش ہے۔ایک ایسے پرائیویٹ ادارے کو دیکھ کر جو باہمی مخاصمت اور ایک دوسرے کے خلاف سازشوں سے پاک ہو اور جس کی تمام تر کوششیں اعلیٰ تو مقاصد کے حصول کے لئے وقف ہوں، استعیاب اور رشک کے جذبات کا اُبھرنا ایک قدرتی امر ہے آپ کے امام جماعت کو علم اور اس کی ترویج سے جو محبت ہے آپ کے پرنسپل صاحب اور ممبران اسٹاف ایسے ماہرین تعلیم بھی اس میں حصہ دار ہیں۔مرزا ناصر احمد صاحب جنہیں اپنے شاگردوں میں شمار کرنا میرے لئے باعث عزت ہے برصغیر ہند و پاکستان کے نامور فاضل اور ماہر تعلیم ہیں۔یہ کالج کی خوش قسمتی ہے کہ اُسے ایک ایسے پیپل کی راہ نمائی حاصل ہے جو اپنی زندگی میں آج کے دن تک بڑی مستقل مزاجی کے ساتھ مقررہ نصب العین کے حصول میں کوشاں چلے آرہے ہیں اور زمانے کے اُتار چڑھاؤ ان کے لئے کبھی سد راہ ثابت نہیں ہو سکے۔ان سے کم اہلیت اور کم عزم و حوصلہ کا انسان ہوتا تو زمانے کے اُتار پڑھاؤ سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتا۔ہمیں ایسے ہی آدمیوں کی ضرورت ہے جو ایمان و یقین ، فدائیت اور بلند کرداری کے اوصاف سے متصف ہوں۔مرزا ناصر احمد سے تعارف اور ان کی دوستی کے شرف سے مشرف ہونا عزم وہمت کے از سر تو بحال ہونے کے علاوہ خود اپنے آپ کو اس مستقبل کے بارے میں جو زمانے کے پرایا نائی بادلوں کے پیچھے پوشیدہ ہے ایک مچھتہ اور غیر متز ازل استحاد سے بہرہ ور کرنے کے مترادف ہے" جناب حماد رضا صاحب کمشنر سرگودھا ڈویژن " میں مبارک باد دیتا ہوں اس کالج کے بانیوں کو کہ انہوں نے اس ادارہ کو قائم کیا۔اور پھر اُسے ترقی دے کر اس حد تک لائے اور اب اسے اور ترقی دینے کے خواہاں ہیں۔مجھے نسل "المنار" جلد ۱۲ شماره ۳/۲ صفحه ۶,۵: