تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 163 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 163

اس کے باوجود وہ غفلت اور گمراہی میں ہی پڑا رہا۔نہ خود قائدہ اُٹھایا نہ دوسروں کی خدمت کر سکا۔پس ہمیشہ عالم باعمل بننے کی کوشش کرو۔خدا تعالے تمہارے ساتھ ہو اور اپنے سایہ رحمت میں ہمیشہ تمہیں رکھے" نے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ( ایدہ اللہ تعالے) کی پونات تعلیم الاسلام کالج سے تعلق قیادت کے زمانہ میں کالج کا نظام تعلیم و تربیت کس درجہ کامیاب دوسروں کے تاثرات رہا اس کا کسی قدر اندازہ ان تاثرات سے بھی بخوبی لگایا جا سکتا ہے جن کا اظہاری غیر از جماعت حلقوں سے تعلق رکھنے والے مشہور اہل علم اور سر بر آوردہ اصحاب نے کیا ہے۔-۱ میاں افضل حسین صاحب (وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی) میرے لئے یہ امر باعث مسرت ہے کہ تعلیم الاسلام کالج ہر اعتبار سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔پروفیسر سراج الدین صاحب سکرٹری محکمہ تعلیم مغربی پاکستان) خالصہ ذاتی عزم و کوشش کے نتیجہ میں ربوہ میں تعلیم الاسلام کا لج عیسی درسگاہ کو قائم کر دکھانا اور پھر اسے پروان چڑھا کر اس کے موجودہ معیار پھر لانا ایک عظیم کارنامہ ہے۔تعلیم الاسلام کالج کی بید خوش قسمتی ہے کہ اسے ایک ایسے پرنسپل کی راہنمائی حاصل ہے جو ایمان دقتین ، خلوص و فدائیت اور بلند کرداری کے اعلیٰ اوصاف سے مالا مال ہے۔آج ہم کو ایسے ہی باہمت ، بلند حو صلہ اور اہلی انسانوں کی ضرورت ہے۔ہر چند مجھے پہلی بار تعلیم الاسلام کا لج کی حدود میں قدم رکھنے کا اتفاق ہوا ہے تاہم میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میرے دل میں اور ان تمام لوگوں کے دلوں میں جو اس صوبے میں تعلیم سے کسی نہ کسی طرح متعلق ہیں محبت کا ایک خاص مقام ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ تعلیم الاسلام کا لج دو نمایاں اور ممتاز شخصیتوں والد اور فرزند کی محنت ، محبت اور شفقت کا ثمرہ ہے۔میری مراد آپ کی جماعت کے واجب الاحترام امام ہو اس کالج کے بانی ہیں اور اُن کے لائق و فائق فرزند مرزا ناصر احمد سے ہے۔وہ اپنے مشہور و معروف خاندان کی قائم کردہ روایات کو وقف کی روح اور ایک ایسے بعد یہ وجوش کے ساتھ چلا رہے ہیں کو دوسرے ممالک میں بھی شاذ ہی نظر آتا ہے۔جب میں اس کالج پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے انگلستان ه روند ے رویے کو سالانہ تعلیم الاسلام کالج ش صفحه ۲۱ + " الفصل ۲ احسان جون ۳۰ ساله مش صفحها : 1900